السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يستحب من تعزية أهل الميت رجاء الأجر في تعزيتهم باب: میت کے اہل خانہ سے اجر کی امید میں تعزیت کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ أَبُو حَاتِمٍ، وَكَانَ يَنْزِلُ مَكَّةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فِي قِصَّةِ رَجُلٍ لَهُ بُنَيٌّ صَغِيرٌ يَأْتِيَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ بُنَيَّهُ هَلَكَ فَمَنَعَهُ الْحُزْنُ عَلَيْهِ أَنْ يَحْضُرَ الْحَلْقَةَ، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَسَأَلَهُ عَنِ ابْنِهِ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ ⦗٩٩⦘ هَلَكَ، قَالَ: فَعَزَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا فُلَانُ أَيُّمَا كَانَ أَحَبَّ إِلَيْكَ أَنْ تُمَتِّعَ بِهِ عُمُرَكَ؟ أَوَ لَا تَأْتِي غَدًا بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ قَدْ سَبَقَكَ إِلَيْهِ فَفَتَحَهُ لَكَ؟ " قَالَ: فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ لَا بَلْ يَسْبِقُنِي إِلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ أَحَبُّ إِلَيَّ، قَالَ: " فَذَاكَ لَكَ ". قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ أَهَذَا لِهَذَا خَاصَّةً أَوْ مَنْ هَلَكَ لَهُ طِفْلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانَ ذَلِكَ لَهُ؟ قَالَ: " لَا، بَلْ مَنْ هَلَكَ لَهُ طِفْلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَأَنَّ ذَلِكَ لَهُ ".سیدنا معاویہ بن قرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے وہ حدیث نقل فرماتے ہیں جس میں اس شخص کا واقعہ ہے جس کا ایک چھوٹا بیٹا تھا، وہ دونوں (باپ بیٹا) نبی کریم ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے، پھر اس کا بیٹا فوت ہو گیا تو اس کے غم نے اسے مجلس میں آنے سے روک لیا۔ نبی کریم ﷺ اسے ملے اور اس کے بیٹے کے بارے میں پوچھا تو اس نے آپ ﷺ کو بتایا کہ وہ فوت ہو گیا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے اس کی تعزیت کی اور فرمایا: ”اے فلاں! تجھے کیا محبوب ہے، یا تو اس سے عمر بھر نفع حاصل کرتا رہے یا جب تو جنت کے دروازے پر پہنچے تو یہ تجھ سے پہلے وہاں کھڑا ہو اور اسے تیرے لیے کھول دے۔“ تو اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! نہیں، بلکہ وہ مجھ سے جنت کے دروازے کی طرف سبقت لے جائے، یہ مجھے زیادہ محبوب ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے وہی کچھ ہے۔“ انصاریوں میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی ﷺ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، کیا یہ نعمت اس بندے کے ساتھ خاص ہے یا پھر جس مسلمان کا بھی بچہ فوت ہو جائے اس کے لیے بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ جس مسلمان کا بچہ بھی فوت ہو جائے، اس کے لیے یہ اجر ہو گا۔“