حدیث نمبر: 7090
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَبَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَلَمَّا رَجَعْنَا وَحَاذَيْنَا بَابَهُ إِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ مُقْبِلَةٍ لَا نَظُنُّهُ عَرَفَهَا، فَقَالَ: " يَا فَاطِمَةُ مِنْ أَيْنَ جِئْتِ؟ " قَالَتْ: جِئْتُ مِنْ أَهْلِ هَذَا الْبَيْتِ رَحِمْتُ إِلَيْهِمْ مَيِّتَهُمْ وَعَزَّيْتُهُمْ، قَالَ: " فَلَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى؟ " قَالَتْ: مَعَاذَ اللهِ أَنْ أَبْلُغَ مَعَهُمُ الْكُدَى وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِيهِ مَا تَذْكُرُ، قَالَ: " لَوْ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى مَا رَأَيْتِ بَابَ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ " وَالْكُدَى الْمَقَابِرُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر ایک آدمی کی قبر بنائی، جب ہم واپس پلٹے اور اس کے دروازے کے برابر آئے تو وہ ایک عورت تھی جو سامنے تھی، ہم نہیں سمجھتے تھے کہ آپ ﷺ اسے جانتے ہوں گے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فاطمہ! تو کہاں سے آئی؟“ تو انہوں نے کہا: ”میں ان گھر والوں کے پاس سے آئی ہوں، میں نے ان کے ساتھ ہمدردی اور تعزیت کی ہے اور میت کے لیے دعا بھی۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تو ان کے ساتھ «الْكُدَى» (قبرستان) تک گئی ہے؟“ وہ کہنے لگی: ”اللہ کی پناہ کہ میں «الْكُدَى» تک پہنچوں جب کہ میں نے آپ ﷺ سے وہ سنا ہے جو آپ بیان فرماتے ہیں!“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو ان کے ساتھ «الْكُدَى» تک چلی جاتی تو پھر جنت کی خوشبو بھی نہ پاتی“ یا فرمایا: ”جنت کو نہیں دیکھ پاتی جب تک تیرے والد کا دادا نہ دیکھ لے۔“ اور «الْكُدَى» سے مراد قبرستان ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7090
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابو داؤد»