کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: میت کے اہل خانہ سے اجر کی امید میں تعزیت کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتُوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ أَبُو عُمَارَةَ، مَوْلَى سَوْدَةَ بِنْتِ سَعْدٍ مَوْلَاةِ بَنِي سَاعِدَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: " مَنْ عَادَ مَرِيضًا فَلَا يَزَالُ فِي الرَّحْمَةِ حَتَّى إِذَا قَعَدَ عِنْدَهُ اسْتَنْقَعَ فِيهَا، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنْ عِنْدِهِ فَلَا يَزَالُ يَخُوضُ فِيهَا حَتَّى يَرْجِعَ مِنْ حَيْثُ خَرَجَ، وَمَنْ عَزَّى أَخَاهُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِيبَةٍ كَسَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ حُلَلَ الْكَرَامَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی بکر بن محمد اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے: ”جس نے بیمار کی تیمار داری کی وہ جب تک اس کے پاس بیٹھتا ہے اللہ کی رحمت میں ہوتا ہے اور اس میں مستغرق ہوتا ہے اور جب اس کے پاس سے اٹھتا ہے تو وہ اس میں ڈبکیاں لے رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ وہیں پلٹ آتا ہے جہاں سے گیا ہوتا ہے اور جس نے مصیبت میں اپنے مسلمان بھائی کی ہمدردی (تعزیت) کی، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن عزت و تکریم کا لباس پہنائیں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7087
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه الطبراني»
حَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الظُّفُرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْآدَمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نَاصِحٍ النَّحْوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَزَّى مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ " تَفَرَّدَ بِهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، وَهُوَ أَحَدُ مَا أُنْكِرَ عَلَيْهِ، وَقَدْ رُوِيَ أَيْضًا عَنْ غَيْرِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی مصیبت زدہ کی تعزیت و ہمدردی کی، اس کے لیے بھی اس کے برابر اجر ہوگا۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں علی بن عاصم منفرد ہیں اور یہ ان روایات میں سے ہے جن کی وجہ سے ان پر نکیر کی گئی ہے، اور یہ ان کے علاوہ دوسروں سے بھی مروی ہے۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7088
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه الترمذي»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ أَبُو حَاتِمٍ، وَكَانَ يَنْزِلُ مَكَّةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فِي قِصَّةِ رَجُلٍ لَهُ بُنَيٌّ صَغِيرٌ يَأْتِيَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ بُنَيَّهُ هَلَكَ فَمَنَعَهُ الْحُزْنُ عَلَيْهِ أَنْ يَحْضُرَ الْحَلْقَةَ، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَسَأَلَهُ عَنِ ابْنِهِ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ ⦗٩٩⦘ هَلَكَ، قَالَ: فَعَزَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا فُلَانُ أَيُّمَا كَانَ أَحَبَّ إِلَيْكَ أَنْ تُمَتِّعَ بِهِ عُمُرَكَ؟ أَوَ لَا تَأْتِي غَدًا بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ قَدْ سَبَقَكَ إِلَيْهِ فَفَتَحَهُ لَكَ؟ " قَالَ: فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ لَا بَلْ يَسْبِقُنِي إِلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ أَحَبُّ إِلَيَّ، قَالَ: " فَذَاكَ لَكَ ". قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ أَهَذَا لِهَذَا خَاصَّةً أَوْ مَنْ هَلَكَ لَهُ طِفْلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانَ ذَلِكَ لَهُ؟ قَالَ: " لَا، بَلْ مَنْ هَلَكَ لَهُ طِفْلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَأَنَّ ذَلِكَ لَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ بن قرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے وہ حدیث نقل فرماتے ہیں جس میں اس شخص کا واقعہ ہے جس کا ایک چھوٹا بیٹا تھا، وہ دونوں (باپ بیٹا) نبی کریم ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے، پھر اس کا بیٹا فوت ہو گیا تو اس کے غم نے اسے مجلس میں آنے سے روک لیا۔ نبی کریم ﷺ اسے ملے اور اس کے بیٹے کے بارے میں پوچھا تو اس نے آپ ﷺ کو بتایا کہ وہ فوت ہو گیا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے اس کی تعزیت کی اور فرمایا: ”اے فلاں! تجھے کیا محبوب ہے، یا تو اس سے عمر بھر نفع حاصل کرتا رہے یا جب تو جنت کے دروازے پر پہنچے تو یہ تجھ سے پہلے وہاں کھڑا ہو اور اسے تیرے لیے کھول دے۔“ تو اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! نہیں، بلکہ وہ مجھ سے جنت کے دروازے کی طرف سبقت لے جائے، یہ مجھے زیادہ محبوب ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے وہی کچھ ہے۔“ انصاریوں میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی ﷺ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، کیا یہ نعمت اس بندے کے ساتھ خاص ہے یا پھر جس مسلمان کا بھی بچہ فوت ہو جائے اس کے لیے بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ جس مسلمان کا بچہ بھی فوت ہو جائے، اس کے لیے یہ اجر ہو گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7089
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه النسائي»