السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يستحب من تعزية أهل الميت رجاء الأجر في تعزيتهم باب: میت کے اہل خانہ سے اجر کی امید میں تعزیت کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7088
حَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الظُّفُرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْآدَمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نَاصِحٍ النَّحْوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَزَّى مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ " تَفَرَّدَ بِهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، وَهُوَ أَحَدُ مَا أُنْكِرَ عَلَيْهِ، وَقَدْ رُوِيَ أَيْضًا عَنْ غَيْرِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی مصیبت زدہ کی تعزیت و ہمدردی کی، اس کے لیے بھی اس کے برابر اجر ہوگا۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں علی بن عاصم منفرد ہیں اور یہ ان روایات میں سے ہے جن کی وجہ سے ان پر نکیر کی گئی ہے، اور یہ ان کے علاوہ دوسروں سے بھی مروی ہے۔ واللہ اعلم۔