السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يستحب من تعزية أهل الميت رجاء الأجر في تعزيتهم باب: میت کے اہل خانہ سے اجر کی امید میں تعزیت کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7087
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتُوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ أَبُو عُمَارَةَ، مَوْلَى سَوْدَةَ بِنْتِ سَعْدٍ مَوْلَاةِ بَنِي سَاعِدَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: " مَنْ عَادَ مَرِيضًا فَلَا يَزَالُ فِي الرَّحْمَةِ حَتَّى إِذَا قَعَدَ عِنْدَهُ اسْتَنْقَعَ فِيهَا، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنْ عِنْدِهِ فَلَا يَزَالُ يَخُوضُ فِيهَا حَتَّى يَرْجِعَ مِنْ حَيْثُ خَرَجَ، وَمَنْ عَزَّى أَخَاهُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِيبَةٍ كَسَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ حُلَلَ الْكَرَامَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی بکر بن محمد اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے: ”جس نے بیمار کی تیمار داری کی وہ جب تک اس کے پاس بیٹھتا ہے اللہ کی رحمت میں ہوتا ہے اور اس میں مستغرق ہوتا ہے اور جب اس کے پاس سے اٹھتا ہے تو وہ اس میں ڈبکیاں لے رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ وہیں پلٹ آتا ہے جہاں سے گیا ہوتا ہے اور جس نے مصیبت میں اپنے مسلمان بھائی کی ہمدردی (تعزیت) کی، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن عزت و تکریم کا لباس پہنائیں گے۔“