حدیث نمبر: 6916
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي ⦗٥٢⦘ عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجٌ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ عَلِيًّا، أَخْبَرَهُ: " أَنَّ جِنَازَةً وُضِعَتْ فِي مَقْبَرَةِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ حِينَ اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَأَمَرَ أَبُو بَرْزَةَ الْمُنَادِيَ فَنَادَى بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ أَقَامَهَا فَتَقَدَّمَ أَبُو بَرْزَةَ، فَصَلَّى بِهِمُ الْمَغْرِبَ وَفِي النَّاسِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَأَبُو بَرْزَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّوْا عَلَى الْجِنَازَةِ ".
حافظ ثناء اللہ

زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل بصرہ نے قبرستان میں جنازہ رکھا، جب دھوپ زرد ہو چکی تھی۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خبر دی تو انہوں نے سورج کے غروب ہونے تک جنازہ نہ پڑھایا۔ پھر انہوں نے مؤذن ابو برذہ کو اذان کا حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی گئی اور برزہ آگے بڑھے اور انہیں مغرب کی نماز پڑھائی اور لوگوں میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور انصاریوں میں سے سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ تھے اور نبی کریم ﷺ کے دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے، پھر انہوں نے جنازہ پڑھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6916
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ عبد الرزاق»