السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من كره شدة الإسراع بها مخافة انبجاسها باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے میت کے پھٹ جانے کے خوف سے جنازہ لے جانے میں بہت زیادہ تیزی کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 6850
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُمَرَ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ الْكُوفِيُّ، ثنا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جِنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " هَذِهِ مَيْمُونَةُ إِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهُ وَلَا تُزَلْزِلُوهُ وَارْفُقُوا، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ، فَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ، وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ.حافظ ثناء اللہ
ابن جریج عطاء سے بیان کرتے ہیں کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ نبی ﷺ کی بیوی سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں سرف میں شامل ہوئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ سیدہ میمونہ (رضی اللہ عنہا) ہیں۔ جب تم ان کی میت کو اٹھاؤ تو اسے زیادہ حرکت نہ دینا بلکہ نرمی کا مظاہرہ کرنا۔ بیشک نبی کریم ﷺ کی نو بیویاں تھیں۔ آپ ﷺ آٹھ کے لیے تقسیم میں حصہ رکھتے اور ایک کے لیے باری تقسیم نہیں کی۔