السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الصلاة على من قتلته الحدود باب: اس شخص پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان جو حدود کے نفاذ کی وجہ سے قتل کیا گیا ہو
حدیث نمبر: 6831
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: " لَمْ يُصَلِّ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ وَلَمْ يَنْهَ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ " ⦗٢٩⦘ وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَمَّا رَجَمَ شَرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةَ قَالَ: " افْعَلُوا بِهَا مَا تَفْعَلُونَ بِمَوْتَاكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ادا نہ کی اور نہ ہی ادا کرنے سے منع کیا اور ہمیں علی بن طالب رضی اللہ عنہ سے یہ بیان کیا گیا کہ جب انہوں نے شراحہ ہمدانیہ رضی اللہ عنہا کو رجم کیا تو کہا: تم اس کے ساتھ وہی کچھ کرو جو اپنے فوت ہونے والوں کے ساتھ کرتے ہو۔