السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الصلاة على من قتلته الحدود باب: اس شخص پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان جو حدود کے نفاذ کی وجہ سے قتل کیا گیا ہو
حدیث نمبر: 6830
وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ فِي قِصَّةِ الْغَامِدِيَّةِ الَّتِي رُجِمَتْ فِي الزِّنَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ بَشِيرٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے باپ رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں، اس غامدیہ کے قصے میں جسے زنا کی حد میں رجم کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اس توبہ کو ناجائز ٹیکس لینے والوں پر تقسیم کیا جاتا تو انہیں بھی معاف کر دیا جاتا۔“ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا، اس کا جنازہ پڑھا گیا اور دفن کر دیا گیا۔