السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الصلاة على من قتل نفسه غير مستحل لقتلها باب: اس شخص پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان جس نے خودکشی کو حلال سمجھے بغیر اپنی جان لی ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو رَوْقٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ بِالْبَصْرَةِ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلُّوا خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ وَصَلُّوا عَلَى كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ وَجَاهِدُوا مَعَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ " قَالَ عَلِيٌّ: مَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَمَنْ دُونَهُ ثِقَاتٌ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِيَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ وَالصَّلَاةِ عَلَى مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَحَادِيثُ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ غَايَةَ الضَّعْفِ، وَأَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ إِرْسَالًا كَمَا ذَكَرَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي:.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نماز پڑھو ہر نیک اور بد کے پیچھے اور ہر بد اور نیک کا جنازہ ادا کرو اور ہر نیک و بد کے ساتھ جہاد کرو۔“
علی (دارقطنی) کہتے ہیں: مکحول نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا اور ان سے نیچے والے راوی ثقہ ہیں۔ شیخ کہتے ہیں کہ ہر نیک و فاجر کی نماز جنازہ اور ہر اس شخص کی نماز جنازہ کے بارے میں جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہا، کئی احادیث مروی ہیں جو سب انتہائی ضعیف ہیں اور اس باب میں سب سے صحیح روایت مکحول کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث ہے جسے ابو داؤد نے کتاب السنن میں روایت کیا ہے، مگر اس میں ارسال ہے جیسا کہ دارقطنی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے۔