السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
جماع أبواب الشهيد ومن يصلي عليه ويغسل -- باب: المسلمين يقتلهم المشركون في المعترك فلا يغسل القتلى ولا يصلى عليهم ويدفنون بكلومهم ودمائهم باب: شہید اور ان لوگوں کے ابواب کا مجموعہ جن کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور انہیں غسل دیا جائے گا -- باب: ان مسلمانوں کا بیان جنہیں مشرکین میدانِ جنگ میں شہید کر دیں تو ان مقتولین کو نہ غسل دیا جائے گا، نہ ان پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور انہیں ان کے زخموں اور خون سمیت دفن کر دیا جائے گا
حدیث نمبر: 6795
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ح وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرًا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَيَسْأَلُ أَيُّهُمَا كَانَ أَكْثَرَ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ، فَإِذَا أُشِيرَ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ: " أَنَا أَشْهَدُ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي خَلِيفَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ اللَّيْثِ بِطُولِهِ، وَعَنْ أَبِي الْوَلِيدِ مُخْتَصَرًا.حافظ ثناء اللہ
عبد الرحمن بن کعب بن مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک جابر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ احد کے مقتولین میں سے دو دو کو ایک ہی کپڑے میں جمع کرتے اور پوچھتے کہ: ”ان میں سے قرآن کو زیادہ یاد کرنے والا کون ہے؟“ تو جس کی طرف اشارہ کیا جاتا، اسے لحد میں آگے کرتے اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”میں قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گا“ اور آپ ﷺ نے حکم دیا: ”انہیں خون سمیت دفن کرو۔“ نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور نہ ہی وہ غسل دیے گئے۔