السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: السقط يغسل ويكفن ويصلى عليه إن استهل أو عرفت له حياة باب: کچے گرے ہوئے بچے کو غسل دیا جائے گا، کفن پہنایا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اگر وہ رویا ہو یا اس کی زندگی کا کوئی نشان پایا گیا ہو
حدیث نمبر: 6794
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْكَاتِبُ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْمَنْفُوسِ الَّذِي لَمْ يَعْمَلْ خَطِيئَةً قَطُّ، وَيَقُولُ: " اللهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا سَلَفًا وَفَرَطًا وَذُخْرًا " قَالَ نُعَيْمٌ: وَقِيلَ لِبَعْضِهِمْ أَتُصَلِّي عَلَى الْمَنْفُوسِ الَّذِي لَمْ يَعْمَلْ خَطِيئَةً قَطُّ؟ قَالَ: قَدْ صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَغْفُورًا لَهُ بِمَنْزِلَةِ مَنْ لَمْ يَعْصِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اس سانس لینے والے بچے کا جنازہ پڑھتے جس نے کوئی غلطی کبھی نہ کی ہو اور کہتے: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطًا وَسَلَفًا وَذُخْرًا» ”اے اللہ! اسے ہمارے لیے پیش رو اور ذخیرہ آخرت اور اجر کا باعث بنا۔“
نعیم کہتے ہیں: بعض نے کہا: آپ اس کا جنازہ پڑھتے ہیں جس نے کبھی کوئی خطا نہیں کی؟ تو وہ کہتے: رسول اللہ ﷺ کا بھی (جنازہ) پڑھا گیا جبکہ آپ ﷺ مغفور تھے اور اس مرتبے میں تھے جس نے کبھی نافرمانی کی ہی نہیں۔