السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من يكون أولى بغسل الميت باب: میت کو غسل دینے کا زیادہ حق دار کون ہے
حدیث نمبر: 6658
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ الْحَجَّاجِ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَلِيَ غُسْلَ مَيِّتٍ فَأَدَّى فِيهِ الْأَمَانَةَ، يَعْنِي: يَسْتُرُ مَا يَكُونُ عِنْدَ ذَلِكَ، كَانَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " قَالَتْ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَلِهِ أَقْرَبُكُمْ مِنْهُ إِنْ كَانَ يَعْلَمُ، فَإِنْ كَانَ لَا يَعْلَمُ فَرَجُلٌ مِمَّنْ تَدْرُونَ أَنَّ عِنْدَهُ وَرَعًا وَأَمَانَةً ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی میت کے غسل کا سرپرست بنے اسے چاہیے اس امانت کو ادا کرے، یعنی اس کی پردہ پوشی کرے جو اس میں ہے، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا گویا اس کی ماں نے اسے آج جنم دیا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چاہیے کہ اس کا ذمہ دار اس کا قریبی ہو اگر وہ جانتا ہے، اگر اس کا قریبی نہیں جانتا تو پھر وہ شخص جس کے متعلق تم جانتے ہو کہ وہ اس کی امانت داری کا خیال رکھے گا۔“