کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: میت کو غسل دینے کا زیادہ حق دار کون ہے
حدیث نمبر: 6656
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَارِثِ الْعَقَبِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا سَوَادَةُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ، عَنْ أَبِيهِ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَشْجَعِيُّ قَالَ: لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ أَجْزَعِ النَّاسِ كُلِّهِمْ عَلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَقَالُوا، يَعْنِي لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ، أَمَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " نَعَمْ، مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَقَالُوا: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَنْ يُغَسِّلُهُ؟ قَالَ: " رِجَالُ أَهْلِ بَيْتِهِ، الْأَدْنَى فَالْأَدْنَى " قَالُوا: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ، فَأَيْنَ تَدْفِنُهُ؟ قَالَ: " ادْفِنُوهُ فِي الْبُقْعَةِ الَّتِي قَبَضَهُ اللهُ فِيهَا، لَمْ يَقْبِضْهُ إِلَّا فِي أَحَبِّ الْبِقَاعِ إِلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سالم بن عبید اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے تو سب لوگوں میں سے زیادہ گھبرانے والے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے اور انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے رسول اللہ ﷺ کے ساتھی! کیا رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: اے رسول اللہ ﷺ کے ساتھی! آپ ﷺ کو غسل کون دے گا؟ تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ کے گھر کے جو قریبی افراد ہیں۔ پھر لوگوں نے کہا: اے صاحبِ رسول اللہ! آپ ﷺ کو کہاں دفن کیا جائے گا؟ تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ کو اسی جگہ پر دفن کرو جہاں آپ ﷺ کی روح قبض کی گئی، آپ ﷺ کو آپ کی محبوب جگہ میں قبض کیا گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6656
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 6657
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ أَبَا جَعْفَرٍ، قَالَ: " غُسِّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا بِالسِّدْرِ، وَغُسِّلَ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ، وَغُسِّلَ مِنْ بِئْرٍ يُقَالُ لَهُ الْغَرْسُ بِقُبَاءَ كَانَتْ لِسَعْدِ بْنِ خَيْثَمَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ مِنْهَا، وَوَلَّى سُفْلَتَهُ عَلِيٌّ وَالْفَضْلُ مُحْتَضِنُهُ وَالْعَبَّاسُ يَصُبُّ الْمَاءَ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَقُولُ: " أَرِحْنِي، قَطَعْتَ وَتِينِي، إِنِّي لَأَجِدُ شَيْئًا يَتَرَطَّلُ عَلَيَّ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن علی رحمہ اللہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کو تین مرتبہ بیری کے ساتھ غسل دیا گیا اور آپ ﷺ کو غسل دیا گیا اس حال میں کہ آپ ﷺ پر قمیض تھی اور آپ ﷺ کو قباء کے کنویں غرس کے پانی سے غسل دیا گیا جو سیدنا سعد بن خثیمہ رضی اللہ عنہ کا تھا، آپ ﷺ اس کا پانی پیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ کی طہارت و صفائی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حصے آئی اور قبر (تدفین) سیدنا فضل رضی اللہ عنہما کے حصے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ پانی بہا رہے تھے اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہما کہہ رہے تھے: مجھے سکون دو تم نے تو میری شہ رگ کاٹ دی، میں کوئی چیز نہیں پاتا جس کے ساتھ میں اپنے کو ترو تازہ کروں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6657
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ عبد الرزاق»
حدیث نمبر: 6658
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ الْحَجَّاجِ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَلِيَ غُسْلَ مَيِّتٍ فَأَدَّى فِيهِ الْأَمَانَةَ، يَعْنِي: يَسْتُرُ مَا يَكُونُ عِنْدَ ذَلِكَ، كَانَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " قَالَتْ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَلِهِ أَقْرَبُكُمْ مِنْهُ إِنْ كَانَ يَعْلَمُ، فَإِنْ كَانَ لَا يَعْلَمُ فَرَجُلٌ مِمَّنْ تَدْرُونَ أَنَّ عِنْدَهُ وَرَعًا وَأَمَانَةً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی میت کے غسل کا سرپرست بنے اسے چاہیے اس امانت کو ادا کرے، یعنی اس کی پردہ پوشی کرے جو اس میں ہے، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا گویا اس کی ماں نے اسے آج جنم دیا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چاہیے کہ اس کا ذمہ دار اس کا قریبی ہو اگر وہ جانتا ہے، اگر اس کا قریبی نہیں جانتا تو پھر وہ شخص جس کے متعلق تم جانتے ہو کہ وہ اس کی امانت داری کا خیال رکھے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6658
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه احمد»