حدیث نمبر: 6659
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ السُّلَمِيُّ، بِحَرَّانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جِنَازَةٍ بِالْبَقِيعِ وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي، وَأَنَا أَقُولُ: وَارَأْسَاهْ، قَالَ: " بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ، وَارَأْسَاهْ " ثُمَّ قَالَ: " وَمَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي فَغَسَّلْتُكِ ⦗٥٥٦⦘ وَكَفَّنْتُكِ وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ ثُمَّ دَفَنْتُكِ؟ " قُلْتُ: لَكَأَنِّي بِكَ وَاللهِ لَوْ فَعَلْتَ ذَلِكَ قَدْ رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِي فَأَعْرَسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ بُدِئَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ جنت البقیع سے جنازے کے بعد واپس آئے اور میں اپنے سر میں درد محسوس کر رہی تھی اور میں کہہ رہی تھی: ہائے میرا سر، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”عائشہ! بلکہ میرا سر۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے کیا پریشانی ہے اگر تو مجھ سے پہلے فوت ہو گئی تو میں تجھے غسل دوں گا اور کفن بھی، تیری نماز جنازہ بھی پڑھوں گا اور دفن بھی کروں گا۔“ تو میں نے کہا: گویا کہ آپ کی سوچ میرے متعلق یہی ہے، اللہ کی قسم! اگر آپ ایسا ہی کریں گے تو آپ پھر میرے سے واپس پلٹیں گے اور اپنی بعض ازواج کے ساتھ شب زفاف منائیں گے، تو رسول کریم ﷺ مسکرا دیے۔ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے پہلے اس مرض میں ابتدا کی جس میں آپ ﷺ فوت ہو گئے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6659
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابن ماجه»