السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من يكون أولى بغسل الميت باب: میت کو غسل دینے کا زیادہ حق دار کون ہے
حدیث نمبر: 6657
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ أَبَا جَعْفَرٍ، قَالَ: " غُسِّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا بِالسِّدْرِ، وَغُسِّلَ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ، وَغُسِّلَ مِنْ بِئْرٍ يُقَالُ لَهُ الْغَرْسُ بِقُبَاءَ كَانَتْ لِسَعْدِ بْنِ خَيْثَمَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ مِنْهَا، وَوَلَّى سُفْلَتَهُ عَلِيٌّ وَالْفَضْلُ مُحْتَضِنُهُ وَالْعَبَّاسُ يَصُبُّ الْمَاءَ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَقُولُ: " أَرِحْنِي، قَطَعْتَ وَتِينِي، إِنِّي لَأَجِدُ شَيْئًا يَتَرَطَّلُ عَلَيَّ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن علی رحمہ اللہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کو تین مرتبہ بیری کے ساتھ غسل دیا گیا اور آپ ﷺ کو غسل دیا گیا اس حال میں کہ آپ ﷺ پر قمیض تھی اور آپ ﷺ کو قباء کے کنویں غرس کے پانی سے غسل دیا گیا جو سیدنا سعد بن خثیمہ رضی اللہ عنہ کا تھا، آپ ﷺ اس کا پانی پیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ کی طہارت و صفائی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حصے آئی اور قبر (تدفین) سیدنا فضل رضی اللہ عنہما کے حصے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ پانی بہا رہے تھے اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہما کہہ رہے تھے: مجھے سکون دو تم نے تو میری شہ رگ کاٹ دی، میں کوئی چیز نہیں پاتا جس کے ساتھ میں اپنے کو ترو تازہ کروں۔