السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من يكون أولى بغسل الميت باب: میت کو غسل دینے کا زیادہ حق دار کون ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَارِثِ الْعَقَبِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا سَوَادَةُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ، عَنْ أَبِيهِ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَشْجَعِيُّ قَالَ: لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ أَجْزَعِ النَّاسِ كُلِّهِمْ عَلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: فَقَالُوا، يَعْنِي لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ، أَمَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " نَعَمْ، مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَقَالُوا: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَنْ يُغَسِّلُهُ؟ قَالَ: " رِجَالُ أَهْلِ بَيْتِهِ، الْأَدْنَى فَالْأَدْنَى " قَالُوا: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ، فَأَيْنَ تَدْفِنُهُ؟ قَالَ: " ادْفِنُوهُ فِي الْبُقْعَةِ الَّتِي قَبَضَهُ اللهُ فِيهَا، لَمْ يَقْبِضْهُ إِلَّا فِي أَحَبِّ الْبِقَاعِ إِلَيْهِ ".سیدنا سالم بن عبید اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے تو سب لوگوں میں سے زیادہ گھبرانے والے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے اور انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے رسول اللہ ﷺ کے ساتھی! کیا رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: اے رسول اللہ ﷺ کے ساتھی! آپ ﷺ کو غسل کون دے گا؟ تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ کے گھر کے جو قریبی افراد ہیں۔ پھر لوگوں نے کہا: اے صاحبِ رسول اللہ! آپ ﷺ کو کہاں دفن کیا جائے گا؟ تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ کو اسی جگہ پر دفن کرو جہاں آپ ﷺ کی روح قبض کی گئی، آپ ﷺ کو آپ کی محبوب جگہ میں قبض کیا گیا۔