حدیث نمبر: 664
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ جَابِرٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ مُخْتَصَرًا وَفِي آخِرِهِ فَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالْأَنْصَارِيِّ مِنَ الدِّمَاءِ قَالَ: " سُبْحَانَ اللهِ ‍‍‍ أَلَا أَنْبَهْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَاكَ "، قَالَ: كُنْتُ فِي سُورَةٍ أَقْرَأُهَا فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَهَا ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسی کے ہم معنی مختصر روایت بیان کی ہے، اس کے آخر میں ہے: جب مہاجر نے انصاری کے خون کو دیکھا تو کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے!“ تو نے مجھے کیوں نہیں بتایا جب اس نے پہلی دفعہ (تیر) مارا تھا؟ اس نے کہا: میں ایک سورت پڑھ رہا تھا، میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اس کو درمیان میں کاٹ دوں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 664
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 198»