السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ترك الوضوء من خروج الدم من غير مخرج الحدث باب: جائے حدث کے علاوہ کسی اور جگہ سے خون نکلنے پر وضو ساقط ہونے (نہ ٹوٹنے) کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ فَأَصَابَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا أَتَى زَوْجُهَا وَكَانَ غَائِبًا فَلَمَّا أُخْبِرَ الْخَبَرَ حَلَفَ لَا يَنْتَهِي حَتَّى يُهْرِيقَ فِي أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ دَمًا، فَخَرَجَ يَتْبَعُ أَثَرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا ⦗٢٢٠⦘ فَقَالَ: " مَنْ رَجُلٌ يَكْلَأُنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ " فَانْتَدَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَا: نَحْنُ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: " فَكُونَا بِفَمِ الشِّعْبِ "، فَلَمَّا أَنْ خَرَجَا إِلَى فَمِ الشِّعْبِ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ: أَيُّ اللَّيْلِ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَكْفِيَكَهُ أَوَّلُهُ أَوْ آخِرُهُ؟ قَالَ: " بَلِ اكْفِنِي أَوَّلَهُ "، فَاضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ فَنَامَ وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي، وَأَتَى زَوْجُ الْمَرْأَةِ، فَلَمَّا رَأَى شَخَصَ الرَّجُلِ عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةُ الْقَوْمِ، فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ، فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا يُصَلِّي، ثُمَّ رَمَاهُ بِسَهْمٍ آخَرَ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ، فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا يُصَلِّي، ثُمَّ عَادَ لَهُ الثَّالِثَةَ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ، ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ ثُمَّ أَهَبَّ صَاحِبُهُ فَقَالَ: اجْلِسْ، فَقَدْ أُثْبِتَّ، فَوَثَبَ فَلَمَّا رَآهُمَا الرَّجُلُ عَرَفَ أَنَّهُ قَدْ نَذَرَا بِهِ فَهَرَبَ فَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالْأَنْصَارِيِّ مِنَ الدِّمَاءِ قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ أَفَلَا أَهْبَبْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَاكَ قَالَ: كُنْتُ فِي سُورَةٍ أَقْرَأُهَا فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَهَا حَتَّى أُنْفِدَهَا، فَلَمَّا تَابَعَ عَلَيَّ الرَّمْيَ رَكَعْتُ فَآذَنْتُكَ، وَايْمُ اللهِ لَوْلَا أَنْ أُضَيِّعَ ثَغْرًا أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ لَقَطَعْتُ نَفْسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا، أَوْ أُنْفِدَهَا ".سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں کھجوروں کے موسم میں نکلے، تو ایک مسلمان کسی مشرکہ عورت پر واقع ہوا، جب رسول اللہ ﷺ واپسی کے لیے چلے تو اس عورت کا خاوند آیا اور وہ صحابی غائب تھا، جب اس کو خبر ہوئی تو اس نے قسم اٹھائی کہ وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک اصحابِ محمد ﷺ میں خون ریزی نہ کر لے، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے نشاناتِ قدم کے پیچھے پیچھے چلا۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا اور فرمایا: ”آج رات ہماری پہرے داری کون کرے گا؟“ ایک مہاجر اور ایک انصاری کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم (یہ کام کریں گے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دونوں وادی کے شروع میں چلے جاؤ۔“ جب وہ وادی کے شروع والے حصے میں جانے کے لیے نکلے تو انصاری نے مہاجر سے کہا: تجھے رات میں کون سا حصہ پسند ہے، یعنی تو رات کے ابتدائی حصے میں سوئے گا یا آخری میں، تاکہ میں تیری طرف سے پہرے داری کروں؟ مہاجر نے کہا: رات کے ابتدائی حصے میں۔ مہاجر لیٹ کر سو گیا اور انصاری نے کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی۔ اس عورت کا خاوند آیا، اس نے دیکھا کہ کوئی محافظ ہے تو اس نے تیر پھینکا جو اس کے جسم میں پیوست ہو گیا، انصاری نے اسے کھینچ کر نکال دیا اور اپنی جگہ کھڑے نماز جاری رکھی، اس نے دوسرا تیر پھینکا، وہ بھی جسم میں پیوست ہو گیا، انصاری نے اسے بھی کھینچ کر نکال دیا اور نماز جاری رکھی، تیسری مرتبہ پھر ایسا ہوا، پھر اس نے رکوع و سجود کیا، پھر اپنے ساتھی کو بیدار کیا اور کہا: اٹھ بیٹھ اب تیری باری ہے، تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ جب آدمی نے دونوں کو دیکھا تو وہ سمجھ گیا کہ وہ چوکنے ہو گئے ہیں تو وہ دوڑ گیا، جب مہاجر نے انصاری کے خون کو دیکھا تو کہا: سبحان اللہ! تو نے مجھے تیر لگنے کے بعد کیوں نہ اٹھا دیا؟ انصاری نے کہا: میں ایسی سورت پڑھ رہا تھا کہ میں نے ناپسند کیا کہ اسے مکمل کرنے سے پہلے روک دوں، جب اس نے مجھ پر مسلسل تیر پھینکے تو میں نے نماز مکمل کی اور تجھے بتلایا۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے پہرے کے ضائع ہونے کا ڈر نہ ہوتا جس کی حفاظت کا رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا، تو اس سورت کے مکمل کرنے سے پہلے میری جان بھی چلی جاتی تو مجھے پروا نہ تھی۔