السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستشعره من الصبر على جميع ما يصيبه من الأمراض والأوجاع والأحزان لما فيها من الكفارات والدرجات باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ اسے جو بھی بیماریاں، تکلیفیں اور غم پہنچیں ان پر صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ ان میں گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی ہے
حدیث نمبر: 6550
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ السَّلِيطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَتِ الْحُمَّى تُسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَنْ أَنْتِ " قَالَتْ: الْحُمَّى، قَالَ: " أَتَعْرِفِينَ أَهْلَ قُبَاءٍ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " اذْهَبِي إِلَيْهِمْ " فَذَهَبَتْ إِلَيْهِمْ فَلَقُوا مِنْهَا شِدَّةً، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنْ شِئْتُمْ دَعَوْتُ اللهَ فَكَشَفَهَا عَنْكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ كَانَتْ كَفَّارَةً وَطَهُورًا " فَقَالُوا: بَلْ تَكُونُ كَفَّارَةً وَطَهُورًا "..حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بخار نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اجازت چاہی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو کون ہے؟“ تو اس نے کہا: میں بخار ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو اہل قباء کو جانتا ہے؟“ تو اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ان کی طرف جا۔“ تو وہ ان کی طرف چلا گیا، انہوں نے اس کی سختی کو محسوس کیا تو آپ ﷺ سے شکایت کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر چاہتے ہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم سے اسے دور کر دے گا، اگر چاہو تو وہ تمہارے لیے «طَهُورٌ» ”پاکیزگی“ اور گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔“ تو انہوں نے کہا: بلکہ کفارہ اور پاکیزگی کا باعث اچھا ہے۔