السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستشعره من الصبر على جميع ما يصيبه من الأمراض والأوجاع والأحزان لما فيها من الكفارات والدرجات باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ اسے جو بھی بیماریاں، تکلیفیں اور غم پہنچیں ان پر صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ ان میں گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی ہے
حدیث نمبر: 6551
رَوَاهُ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، فَذَكَرَ الْكَلَامَ الْأَوَّلَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُمِّ طَارِقٍ مَوْلَاةِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ مَعْنَى الْكَلَامِ الثَّانِي فِي شِكَايَتِهِمْ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ، أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، أَنْبَأَ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
یعلیٰ بن عبید نے اسے اعمش سے روایت کیا ہے، پہلی بات کا ذکر اعمش سے، وہ جعفر بن عبدالرحمن انصاری سے، وہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی باندی اُمِّ طارق سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں، اور دوسرے کلام کے معنی کا ذکر کیا جو ان کی شکایت کے متعلق تھا، وہ اعمش سے بیان کرتے ہیں، وہ ابوسفیان سے اور وہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے۔