السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستشعره من الصبر على جميع ما يصيبه من الأمراض والأوجاع والأحزان لما فيها من الكفارات والدرجات باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ اسے جو بھی بیماریاں، تکلیفیں اور غم پہنچیں ان پر صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ ان میں گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی ہے
حدیث نمبر: 6549
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَيَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا بَحْرٌ هُوَ ابْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: " أَبْتَلِي عَبْدِيَ الْمُؤْمِنَ، فَإِذَا لَمْ يَشْكُ إِلَى عُوَّادِهِ ذَلِكَ حَلَلْتُ عَنْهُ عُقَدِي، وَأَبْدَلْتُهُ دَمًا خَيْرًا مِنْ دَمِهِ، وَلَحْمًا خَيْرًا مِنْ لَحْمِهِ، ثُمَّ قُلْتُ لَهُ: ايتَنِفِ الْعَمَلَ؟ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میں اپنے مومن بندے کو آزماتا ہوں، جب وہ اپنی خلاصی کی شکایت نہیں کرتا تو میں اس کی گرہ کھول دیتا ہوں اور اس کے خون کو اچھے خون میں بدل دیتا ہوں اور اس کے گوشت کو اچھے گوشت میں، پھر میں اسے کہتا ہوں: اب خوب اعمال کر۔“