السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستشعره من الصبر على جميع ما يصيبه من الأمراض والأوجاع والأحزان لما فيها من الكفارات والدرجات باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ اسے جو بھی بیماریاں، تکلیفیں اور غم پہنچیں ان پر صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ ان میں گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی ہے
حدیث نمبر: 6548
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَكَّةَ ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: " إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي الْمُؤْمِنَ فَلَمْ يَشْكُنِي إِلَى عُوَّادِهِ أَطْلَقْتُهُ مِنْ أُسَارِيَّ، ثُمَّ أَبْدَلْتُهُ لَحْمًا خَيْرًا مِنْ لَحْمِهِ، وَدَمًا خَيْرًا مِنْ دَمِهِ، ثُمَّ يسْتَأْنَفُ الْعَمَلَ". وَرَوَاهُ أَبُو صَخْرٍ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا عَلَيْهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں مومن بندے کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہوں، پھر وہ مجھ سے شکایت نہیں کرتا آزمائش کے ختم کرنے کی کہ میں اسے ٹھیک کر دوں۔ میں اسے اس کے غم سے آزاد کر دیتا ہوں۔ پھر میں اس کے گوشت کو اچھے گوشت میں بدل دیتا ہوں اور اس کے خون کو بہتر خون میں بدل دیتا ہوں، تو پھر وہ نئے سرے سے اعمالِ صالحہ شروع کر دیتا ہے۔“