السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستعمله من قصر الأمل والاستعداد للموت فإن الأمر قريب باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ وہ امیدوں کو مختصر کرے اور موت کی تیاری کرے کیونکہ یہ معاملہ (موت) قریب ہے
حدیث نمبر: 6516
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ السَّقَّا، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ السِّجْزِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ ابْنُ الدَّرَاوَرْدِيِّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنی دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے اپنی آخرت سے محبت کی اس نے اپنی دنیا کو نقصان پہنچایا، سو تم فنا ہو جانے والی پر باقی رہنے والی کو ترجیح دو۔“