کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ وہ امیدوں کو مختصر کرے اور موت کی تیاری کرے کیونکہ یہ معاملہ (موت) قریب ہے
حدیث نمبر: 6504
قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِمَنِ اتَّقَى} [النساء: 77] وَقَالَ {وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ} [آل عمران: 185] وَقَالَ فِيمَنْ لَمْ تُحْمَدْ فِعَالُهُمْ {ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ} [الحجر: 3] وَقَالَ {وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ} [البقرة: 281] وَقَالَ {يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا} [آل عمران: 30] الْآيَةَ..
حافظ ثناء اللہ
اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِمَنِ اتَّقَى﴾ ”کہہ دیجیے کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور آخرت پرہیزگاروں کے لیے بہت بہتر ہے۔“ [سورة النساء: 77]
اور فرمایا: ﴿وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾ ”اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔“ [سورة آل عمران: 185]
اور ان لوگوں کے بارے میں جن کے افعال قابلِ ستائش نہیں ہیں، فرمایا: ﴿ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ﴾ ”انہیں چھوڑ دیجیے کہ کھا لیں اور فائدے اٹھا لیں اور لمبی امیدیں انہیں غفلت میں ڈالے رکھیں، پس عنقریب وہ جان لیں گے۔“ [سورة الحجر: 3]
اور فرمایا: ﴿وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ﴾ ”اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔“ [سورة البقرة: 281]
اور فرمایا: ﴿يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا﴾ ”جس دن ہر شخص اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اپنے سامنے موجود پائے گا۔“ [سورة آل عمران: 30] مکمل آیت تک۔
اور فرمایا: ﴿وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾ ”اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔“ [سورة آل عمران: 185]
اور ان لوگوں کے بارے میں جن کے افعال قابلِ ستائش نہیں ہیں، فرمایا: ﴿ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ﴾ ”انہیں چھوڑ دیجیے کہ کھا لیں اور فائدے اٹھا لیں اور لمبی امیدیں انہیں غفلت میں ڈالے رکھیں، پس عنقریب وہ جان لیں گے۔“ [سورة الحجر: 3]
اور فرمایا: ﴿وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ﴾ ”اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔“ [سورة البقرة: 281]
اور فرمایا: ﴿يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا﴾ ”جس دن ہر شخص اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اپنے سامنے موجود پائے گا۔“ [سورة آل عمران: 30] مکمل آیت تک۔
حدیث نمبر: 6504
حَدَّثَنَا، أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ أَمْلَاهُ عَلَيْنَا مِنْ حِفْظِهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ، وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت تم میں سے ایک کے جوتے کے تسمے سے بھی قریب ہے اور دوزخ بھی ایسے ہے۔“
حدیث نمبر: 6505
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَّ خُطُوطًا وَخَطَّ خَطًّا نَاحِيَةً، ثُمَّ قَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا؟ هَذَا مَثَلُ ابْنِ آدَمَ وَمَثَلُ الْمُتَمَنِّي، وَذَلِكَ الْخَطُّ الْأَمَلُ، بَيْنَمَا يَأْمُلُ إِذْ جَاءَهُ الْمَوْتُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک نبی کریم ﷺ نے کچھ خط کھینچے اور اس کے ارد گرد بھی ایک دائرہ لگایا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ یہ ابن آدم اور اس کی آرزوؤں کی مثال ہے اور یہ لکیر اس کی امید کی ہے جو وہ امیدیں کرتا ہے مگر اس کو موت آ لیتی ہے۔“
حدیث نمبر: 6506
وَحَدَّثَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْحَسَنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ: الْحِرْصُ، وَطُولُ الْأَمَلِ ". قَالَ الْبُخَارِيُّ: رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ فَذَكَرَهُ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے مگر اس کی دو چیزیں باقی رہتی ہیں: 1۔ طمع، 2۔ امید۔“
حدیث نمبر: 6507
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَيْنِ: عَلَى جَمْعِ الْمَالِ، وَطُولِ الْحَيَاةِ ". أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بوڑھے کا دل دو چیزوں کی محبت میں جوان رہتا ہے: مال اکٹھا کرنے میں اور لمبی زندگی کے لیے۔“
حدیث نمبر: 6508
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ الْفَقِيهُ وَأَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا مِثْلَهُ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللهُ عَلَى مَنْ تَابَ ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " فَلَا أَدْرِي مِنَ الْقُرْآنِ هِيَ أَمْ لَا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَرُوِّينَا عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ كَانُوا يَرَوْنَهُ مِنَ الْقُرْآنِ حَتَّى نَزَلَتْ {أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ} [التكاثر: ٢] إِلَى آخِرِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ ”اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ دو اور کی تلاش کرتا ہے اور ابن آدم کا پیٹ صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسی کی طرف رجوع کرتا ہے جو توبہ کرتا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ یہ بات قرآن میں سے ہے یا نہیں۔ ہمیں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے روایت بیان کی، وہ اسے قرآن میں سے خیال کرتے تھے، یہاں تک کہ یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾ [سورة التكاثر: 1] ”تمہیں مال کی کثرت نے ہلاک کر دیا (مشغول کر دیا) حتیٰ کہ تم قبروں کی زیارت کرنے لگے“ یعنی فوت ہو گئے۔
حدیث نمبر: 6509
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ "؟ قَالُوا مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا وَمَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ، مَالُكَ مَا قَدَّمْتَ، وَمَالُ وَارِثِكَ مَا أَخَّرْتَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال محبوب ہو؟“ تو انہوں نے عرض کیا: ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جسے اپنا مال زیادہ محبوب نہ ہو، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھر جان لو کہ تم میں سے کوئی بھی نہیں مگر اسے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہے، تو پھر تیرا مال وہ ہے جو تو نے آگے بھیجا اور جو تو نے پیچھے چھوڑا وہ تیرے ورثاء کا ہے۔“
حدیث نمبر: 6510
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عِيسَى بْنُ مِينَا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقُولُ الْعَبْدُ ⦗٥١٦⦘ مَالِي مَالِي، إِنَّمَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ: مَا أَكَلَ فَأَفْنَى، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى، أَوْ أَعْطَى فَأَمْضَى، وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بندہ کہتا ہے: میرا مال، میرا مال! مگر اس کا مال تین طرح کا ہے: جو اس نے کھا لیا اور ہضم کر لیا یا جو پہن لیا اور پھاڑ لیا یا جو دے دیا اور آگے بھیج دیا، اور جو ان کے علاوہ ہے وہ اسے چھوڑنے والا اور لوگوں کی طرف جانے والا ہے۔“
حدیث نمبر: 6511
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، وَإِنَّ اللهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا، فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ، فَاتَّقُوا الدُّنْيَا، وَفِتْنَةَ النِّسَاءِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي مَسْلَمَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک دنیا میٹھی اور سرسبز ہے اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں جانشین بنانے والا ہے اور دیکھنے والا ہے کہ تم کیا اعمال کرتے ہو، سو تم دنیا سے اور عورتوں کے فتنہ سے بچو۔“
حدیث نمبر: 6512
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، وَأَبُو الْمُنْذِرِ، وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي؛ وَقَالَ: " كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ ". قَالَ: وَقَالَ لِيَ ابْنُ عُمَرَ: " إِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ، وَإِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَّاحَ، وَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِكَ لِمَسَاوِيكَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا (کندھا پکڑا) اور فرمایا: ”تو دنیا میں ایسے رہ گویا کہ تو اجنبی ہے یا پھر راستہ عبور کرنے والا مسافر ہے۔“ راوی کہتے ہیں: مجھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”جب تو صبح کرے تو شام کا انتظار نہ کر اور جب تو شام کرلے تو صبح ہونے کا انتظار نہ کر اور اپنے گناہوں کو مٹانے کے لیے نیک اعمال کر۔“
حدیث نمبر: 6513
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مُظْلِمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ، أَوْ مَالِهِ؛ فَلْيؤَدِّهَا إِلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يُقْبَلُ فِيهِ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ؛ إِنْ كَانَ لَهُ عَمِلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ، وَأُعْطِيَ صَاحِبُهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ؛ فَحُمِلَتْ عَلَيْهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ لَا يَكُونَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کسی کے پاس اس کے بھائی کی ظلم (ناجائز) سے ماری ہوئی عزت یا مال ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کو ادا کر دے اس سے پہلے کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس سے کوئی درہم و دینار قبول نہ کیا جائے؛ اگر اس کے اعمال صالح ہوں گے تو وہ اس سے لے لیے جائیں گے اور اس کے ساتھی کو دیے جائیں گے، اور اگر اس کے پاس اعمال صالحہ نہیں ہوں گے تو اس کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیے جائیں گے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن ابی ذئب سے ایسی ہی روایت بیان کی ہے اور اس میں یہ لفظ بیان کیے ہیں کہ ”اسے چاہیے کہ آج ہی ادا کر دے اس سے قبل جب اس کے پاس کوئی درہم و دینار نہیں ہوگا۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن ابی ذئب سے ایسی ہی روایت بیان کی ہے اور اس میں یہ لفظ بیان کیے ہیں کہ ”اسے چاہیے کہ آج ہی ادا کر دے اس سے قبل جب اس کے پاس کوئی درہم و دینار نہیں ہوگا۔“
حدیث نمبر: 6514
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِجَازِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ⦗٥١٧⦘ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ، وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا، وَتَمَنَّى عَلَى اللهِ ". لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ حِمْيَرٍ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُبَارَكِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عقلمند دانا وہ شخص ہے جس نے اپنی حفاظت کی اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے اعمال کیے اور عاجز (کمزور) وہ ہے جس نے اپنے دل کو خواہشات کے پیچھے لگا دیا اور اللہ تعالیٰ پر امید لگائے بیٹھ گیا۔“
حدیث نمبر: 6515
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُوحٍ مِنْ أَوْلَادِ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ بِالْكُوفَةِ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ؛ فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ حَثَا عَلَى الْقَبْرِ فَاسْتَدَرْتُ فَاسْتَقْبَلْتُهُ؛ فَبَكَى حَتَّى بَلَّ الثَّرَى، ثُمَّ قَالَ: " إِخْوَانِي، لِمِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ فَأَعِدُّوا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک جنازے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، چنانچہ جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ وہاں دو زانو ہو کر بیٹھ گئے، سو میں گھوم کر آپ ﷺ کے سامنے آ گیا تو آپ ﷺ (اس قدر) روئے کہ مٹی تر ہو گئی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے میرے بھائیو! ایسا ہی معاملہ (ہمارے ساتھ ہونا) ہے، سو اس کے لیے تیاری کر لو۔“
حدیث نمبر: 6516
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ السَّقَّا، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ السِّجْزِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ ابْنُ الدَّرَاوَرْدِيِّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنی دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے اپنی آخرت سے محبت کی اس نے اپنی دنیا کو نقصان پہنچایا، سو تم فنا ہو جانے والی پر باقی رہنے والی کو ترجیح دو۔“