السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من بلغ ستين سنة فقد أعذر الله إليه في العمر، لقوله عز وجل أولم نعمركم ما يتذكر فيه من تذكر، وجاءكم النذير باب: جو شخص ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا تو اللہ نے عمر کے معاملے میں اس کا عذر ختم کر دیا،
حدیث نمبر: 6517
لِقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ، وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ} [فاطر: 37].حافظ ثناء اللہ
اللہ عزوجل کے اس فرمان کی وجہ سے: ﴿أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ، وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ﴾ ”کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جس نے اس میں نصیحت حاصل کرنی ہوتی وہ نصیحت حاصل کر لیتا، اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آ چکا تھا۔“ [سورة فاطر: 37]
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَدْ أَعْذَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى عَبْدٍ أَخَّرَ أَجَلَهُ حَتَّى بَلَغَ سَبْعِينَ أَوْ سِتِّينَ سَنَةً ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ مُطَهَّرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ وَقَالَ: سِتِّينَ سَنَةً، وَقَالَ: تَابَعَهُ أَبُو حَازِمٍ وَابْنُ عَجْلَانَ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کا عذر ختم کر دیتے ہیں جس کی موت کو مؤخر کیا، حتیٰ کہ وہ ساٹھ ستر سال کی عمر کو پہنچا“۔