السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستعمله من قصر الأمل والاستعداد للموت فإن الأمر قريب باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ وہ امیدوں کو مختصر کرے اور موت کی تیاری کرے کیونکہ یہ معاملہ (موت) قریب ہے
حدیث نمبر: 6515
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُوحٍ مِنْ أَوْلَادِ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ بِالْكُوفَةِ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ؛ فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ حَثَا عَلَى الْقَبْرِ فَاسْتَدَرْتُ فَاسْتَقْبَلْتُهُ؛ فَبَكَى حَتَّى بَلَّ الثَّرَى، ثُمَّ قَالَ: " إِخْوَانِي، لِمِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ فَأَعِدُّوا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک جنازے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، چنانچہ جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ وہاں دو زانو ہو کر بیٹھ گئے، سو میں گھوم کر آپ ﷺ کے سامنے آ گیا تو آپ ﷺ (اس قدر) روئے کہ مٹی تر ہو گئی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے میرے بھائیو! ایسا ہی معاملہ (ہمارے ساتھ ہونا) ہے، سو اس کے لیے تیاری کر لو۔“