❮
❯
حدیث نمبر: 651
أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: " كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ الْحَسَنُ فَأَقْبَلَ يَتَمَرَّغُ عَلَيْهِ، فَرَفَعَ عَنْ قَمِيصِهِ، وَقَبَّلَ زَبِيبَتَهُ ". ⦗٢١٦⦘ فَهَذَا إِسْنَادُهُ غَيْرُ قَوِيٍّ، وَلَيْسَ فِيهِ أَنَّهُ مَسَّهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
حافظ ثناء اللہ

عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے پاس تھے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے اور آپ ﷺ پر لوٹ پوٹ ہونے لگے، آپ ﷺ نے ان کی قمیص اٹھائی اور ان کی شرمگاہ کا بوسہ لیا۔
اس کی سند قوی نہیں ہے اور اس میں یہ ذکر نہیں کہ آپ ﷺ نے اسے ہاتھ سے چھوا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 651
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»