السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ترك الوضوء من مس الفرج بظهر الكف باب: ہاتھ کی پشت سے شرمگاہ کو چھونے سے وضو ساقط ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: اجْتَمَعَ سُفْيَانُ وَابْنُ جُرَيْجٍ فَتَذَاكَرَا مَسَّ الذَّكَرِ، فَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: " يُتَوَضَّأُ مِنْهُ "، وَقَالَ سُفْيَانُ: " لَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ "، فَقَالَ سُفْيَانُ: " أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَمْسَكَ بِيَدِهِ مَنِيًّا مَا كَانَ عَلَيْهِ؟ " فَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ " يَغْسِلُ يَدَهُ " قَالَ: " فَأَيُّهُمَا أَكْبَرُ الْمَنِيُّ أَوْ مَسُّ الذَّكَرِ؟ " فَقَالَ: " مَا أَلْقَاهَا عَلَى لِسَانِكَ إِلَّا الشَّيْطَانُ " قَالَ الشَّيْخُ: وَإِنَّمَا أَرَادَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَنَّ السُّنَّةَ لَا تُعَارَضُ بِالْقِيَاسِ، وَذَكَرَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ الزَّعْفَرَانِيِّ عَنْهُ أَنَّ الَّذِي قَالَهُ مِنَ الصَّحَابَةِ لَا وُضُوءَ فِيهِ فَإِنَّمَا قَالَهُ بِالرَّأْيِ وَمَنْ أَوْجَبَ الْوُضُوءَ فِيهِ فَلَا يُوجِبُهُ إِلَّا بِالِاتِّبَاعِ.(الف) سفیان اور ابن جریج رحمہما اللہ اکٹھے ہوئے تو انہوں نے مسِ ذکر پر بحث و مباحثہ کیا۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس سے وضو کیا جائے گا اور سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: وضو نہیں کیا جائے گا۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے بتاؤ اگر کوئی آدمی اپنے ہاتھ سے منی پکڑ لیتا ہے تو اس پر کیا ہے؟
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ اپنا ہاتھ دھوئے گا تو انہوں نے پوچھا: کیا منی زیادہ بڑی ہے یا شرمگاہ کو چھونا بڑا ہے؟ تو ابن جریج رحمہ اللہ نے کہا: یہ بات شیطان نے تمہارے دل میں ڈالی ہے۔
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ ابن جریج رحمہ اللہ کی مراد یہ ہے کہ سنت کا تقابل قیاس سے نہیں کیا جائے گا۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ نے زعفرانی والی روایت میں ذکر کیا ہے کہ میں نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے یہ نقل کیا ہے کہ اس میں وضو نہیں ہے، یہ اس کی اپنی رائے ہے اور جس نے وضو واجب قرار دیا تو ان کی اتباع کرتے ہوئے واجب قرار دیا ہے۔