السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستعمله من قصر الأمل والاستعداد للموت فإن الأمر قريب باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ وہ امیدوں کو مختصر کرے اور موت کی تیاری کرے کیونکہ یہ معاملہ (موت) قریب ہے
حدیث نمبر: 6509
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ "؟ قَالُوا مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا وَمَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ، مَالُكَ مَا قَدَّمْتَ، وَمَالُ وَارِثِكَ مَا أَخَّرْتَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الْأَعْمَشِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال محبوب ہو؟“ تو انہوں نے عرض کیا: ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جسے اپنا مال زیادہ محبوب نہ ہو، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھر جان لو کہ تم میں سے کوئی بھی نہیں مگر اسے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہے، تو پھر تیرا مال وہ ہے جو تو نے آگے بھیجا اور جو تو نے پیچھے چھوڑا وہ تیرے ورثاء کا ہے۔“