السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستعمله من قصر الأمل والاستعداد للموت فإن الأمر قريب باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ وہ امیدوں کو مختصر کرے اور موت کی تیاری کرے کیونکہ یہ معاملہ (موت) قریب ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ الْفَقِيهُ وَأَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا مِثْلَهُ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللهُ عَلَى مَنْ تَابَ ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " فَلَا أَدْرِي مِنَ الْقُرْآنِ هِيَ أَمْ لَا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَرُوِّينَا عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ كَانُوا يَرَوْنَهُ مِنَ الْقُرْآنِ حَتَّى نَزَلَتْ {أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ} [التكاثر: ٢] إِلَى آخِرِهَا.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ ”اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ دو اور کی تلاش کرتا ہے اور ابن آدم کا پیٹ صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسی کی طرف رجوع کرتا ہے جو توبہ کرتا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ یہ بات قرآن میں سے ہے یا نہیں۔ ہمیں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے روایت بیان کی، وہ اسے قرآن میں سے خیال کرتے تھے، یہاں تک کہ یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ﴾ [سورة التكاثر: 1] ”تمہیں مال کی کثرت نے ہلاک کر دیا (مشغول کر دیا) حتیٰ کہ تم قبروں کی زیارت کرنے لگے“ یعنی فوت ہو گئے۔