السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستعمله من قصر الأمل والاستعداد للموت فإن الأمر قريب باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ وہ امیدوں کو مختصر کرے اور موت کی تیاری کرے کیونکہ یہ معاملہ (موت) قریب ہے
حدیث نمبر: 6510
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عِيسَى بْنُ مِينَا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقُولُ الْعَبْدُ ⦗٥١٦⦘ مَالِي مَالِي، إِنَّمَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ: مَا أَكَلَ فَأَفْنَى، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى، أَوْ أَعْطَى فَأَمْضَى، وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بندہ کہتا ہے: میرا مال، میرا مال! مگر اس کا مال تین طرح کا ہے: جو اس نے کھا لیا اور ہضم کر لیا یا جو پہن لیا اور پھاڑ لیا یا جو دے دیا اور آگے بھیج دیا، اور جو ان کے علاوہ ہے وہ اسے چھوڑنے والا اور لوگوں کی طرف جانے والا ہے۔“