السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستعمله من قصر الأمل والاستعداد للموت فإن الأمر قريب باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ وہ امیدوں کو مختصر کرے اور موت کی تیاری کرے کیونکہ یہ معاملہ (موت) قریب ہے
قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِمَنِ اتَّقَى} [النساء: 77] وَقَالَ {وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ} [آل عمران: 185] وَقَالَ فِيمَنْ لَمْ تُحْمَدْ فِعَالُهُمْ {ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ} [الحجر: 3] وَقَالَ {وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ} [البقرة: 281] وَقَالَ {يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا} [آل عمران: 30] الْآيَةَ..اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِمَنِ اتَّقَى﴾ ”کہہ دیجیے کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور آخرت پرہیزگاروں کے لیے بہت بہتر ہے۔“ [سورة النساء: 77]
اور فرمایا: ﴿وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾ ”اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔“ [سورة آل عمران: 185]
اور ان لوگوں کے بارے میں جن کے افعال قابلِ ستائش نہیں ہیں، فرمایا: ﴿ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا وَيَتَمَتَّعُوا وَيُلْهِهِمُ الْأَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ﴾ ”انہیں چھوڑ دیجیے کہ کھا لیں اور فائدے اٹھا لیں اور لمبی امیدیں انہیں غفلت میں ڈالے رکھیں، پس عنقریب وہ جان لیں گے۔“ [سورة الحجر: 3]
اور فرمایا: ﴿وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ﴾ ”اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔“ [سورة البقرة: 281]
اور فرمایا: ﴿يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا﴾ ”جس دن ہر شخص اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اپنے سامنے موجود پائے گا۔“ [سورة آل عمران: 30] مکمل آیت تک۔
حَدَّثَنَا، أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ أَمْلَاهُ عَلَيْنَا مِنْ حِفْظِهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ، وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ سُفْيَانَ.سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت تم میں سے ایک کے جوتے کے تسمے سے بھی قریب ہے اور دوزخ بھی ایسے ہے۔“