حدیث نمبر: 6505
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَّ خُطُوطًا وَخَطَّ خَطًّا نَاحِيَةً، ثُمَّ قَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا؟ هَذَا مَثَلُ ابْنِ آدَمَ وَمَثَلُ الْمُتَمَنِّي، وَذَلِكَ الْخَطُّ الْأَمَلُ، بَيْنَمَا يَأْمُلُ إِذْ جَاءَهُ الْمَوْتُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک نبی کریم ﷺ نے کچھ خط کھینچے اور اس کے ارد گرد بھی ایک دائرہ لگایا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ یہ ابن آدم اور اس کی آرزوؤں کی مثال ہے اور یہ لکیر اس کی امید کی ہے جو وہ امیدیں کرتا ہے مگر اس کو موت آ لیتی ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 6505
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»