❮
❯
حدیث نمبر: 6503
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ⦗٥١٣⦘ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ، أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ تَعْرِفُونَ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ، قَالَ سُلَيْمَانُ: قَالَ هِشَامٌ: " بِقَلْبِهِ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ، لَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ ". فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ: أَوَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ فَقَالَ: " لَا، مَا صَلَّوْا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ.
حافظ ثناء اللہ

نبی کریم ﷺ کی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب تم پر ائمہ مقرر کیے جائیں گے، تم ان کی کچھ باتوں کو اچھا جانو گے اور کچھ کا انکار کرو گے، تو جس نے انکار کیا“
سلیمان کہتے ہیں: ہشام نے کہا: ”(یعنی) اپنے دل سے (انکار کیا) تو وہ بری ہو گیا اور جس نے ناپسند کیا تو وہ محفوظ ہو گیا، لیکن (قابلِ مؤاخذہ) وہ شخص ہے جو اس پر خوش ہوا اور تابعداری کی۔“ تو کہا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ نماز پڑھیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 6503
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»