السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: ما يستدل به على أن المراد بهذا الكفر كفر يباح به دمه، لا كفر يخرج به عن الإيمان بالله ورسوله إذا لم يجحد وجوب الصلاة باب: اس دلیل کا بیان جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کفر سے مراد وہ کفر ہے جس سے اس کا خون مباح ہو جاتا ہے، نہ کہ وہ کفر جو اسے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے خارج کر دے، بشرطیکہ وہ نماز کے فرض ہونے کا انکار نہ کرے
حدیث نمبر: 6503
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ⦗٥١٣⦘ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ، أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ تَعْرِفُونَ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ، قَالَ سُلَيْمَانُ: قَالَ هِشَامٌ: " بِقَلْبِهِ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ، لَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ ". فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ: أَوَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ فَقَالَ: " لَا، مَا صَلَّوْا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ.حافظ ثناء اللہ
نبی کریم ﷺ کی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب تم پر ائمہ مقرر کیے جائیں گے، تم ان سے کچھ جانو گے اور کچھ کا انکار کرو گے یعنی (بات سمجھ نہیں آئے گی)۔“
سلیمان کہتے ہیں: ہشام نے کہا: ”جس نے یہ بات دل سے کہی تحقیق وہ بری ہو گیا اور جس نے ناپسند کیا تو وہ محفوظ ہو گیا، لیکن کامیاب وہ شخص ہوا جو اس پر خوش ہوا اور تابعداری کی۔“ تو کہا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم انہیں قتل نہ کر دیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ نماز پڑھیں۔“