کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس دلیل کا بیان جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کفر سے مراد وہ کفر ہے جس سے اس کا خون مباح ہو جاتا ہے، نہ کہ وہ کفر جو اسے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے خارج کر دے، بشرطیکہ وہ نماز کے فرض ہونے کا انکار نہ کرے
حدیث نمبر: 6500
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيِّ، قَالَ: زَعَمَ أَبُو مُحَمَّدٍ أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللهُ، مَنْ أَحْسَنَ وَضُوءَهُنَّ وَصَلَّاهُنَّ لِوَقْتِهِنَّ، وَأَتَمَّ رُكُوعَهُنَّ وَسُجُودَهُنَّ وَخُشُوعَهُنَّ كَانَ لَهُ عَلَى اللهِ عَهْدٌ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ لَهُ عَلَى اللهِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو محمد نے جھوٹ بولا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے: ”اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جس نے ان کا وضو اچھا کیا اور ان کو وقت پر ادا کیا اور ان کے رکوع کو پورا کیا اور خشوع و خضوع سے ادا کیا تو اللہ تعالیٰ پر یہ عہد ہے کہ وہ ایسے بندے کو معاف کر دے اور جو کوئی ایسا نہیں کرتا، اس پر اللہ تعالیٰ کا کوئی عہد نہیں، اگر چاہے تو اسے معاف کر دے اور چاہے تو اسے عذاب دے۔“
حدیث نمبر: 6501
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا ⦗٥١٢⦘ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيُّ، ثنا حِرْمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ؛ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ الْمُسْنَدِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں حکم دیا گیا ہوں کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں حتیٰ کہ وہ اس بات کا اقرار نہ کرلیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور وہ نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور اموال کو بچا لیا مگر اسلام کے حق سے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے۔“
حدیث نمبر: 6502
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُهُ أَنْ يُسَارَّهُ، فَأَذِنَ لَهُ فَسَارَّهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ يَسْتَأْذِنُهُ فِيهِ، فَجَهَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلَامِهِ، فَقَالَ: " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ "؟ قَالَ: بَلَى، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ: " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ "؟ قَالَ: بَلَى، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ: " أَلَيْسَ يُصَلِّي؟ "، قَالَ: بَلَى، وَلَا صَلَاةَ لَهُ، قَالَ: " أُولَئِكَ الَّذِينَ نُهِيتُ عَنْ قَتْلِهِمْ ". لَفْظُ حَدِيثِ الْقَطَّانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ لوگوں کے سامنے تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اور سرگوشی کے لیے اجازت طلب کرنے لگا، تو آپ ﷺ نے اسے اجازت دے دی، اس نے منافقین میں سے ایک آدمی کے قتل کے بارے میں سرگوشی کی تو آپ ﷺ نے اپنی آواز کو اونچا کیا اور فرمایا: ”کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں، مگر اس کا اقرار اقرار نہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ اقرار نہیں کرتا کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن اس کا کوئی اقرار نہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن اس کی نماز نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہی تو ہیں وہ لوگ جن کے قتل سے میں منع کرتا ہوں۔“ یہ قطان کی حدیث کے لفظ ہیں۔
حدیث نمبر: 6503
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ⦗٥١٣⦘ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ، أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ تَعْرِفُونَ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ، قَالَ سُلَيْمَانُ: قَالَ هِشَامٌ: " بِقَلْبِهِ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ، لَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ ". فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ: أَوَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ فَقَالَ: " لَا، مَا صَلَّوْا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ.
حافظ ثناء اللہ
نبی کریم ﷺ کی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب تم پر ائمہ مقرر کیے جائیں گے، تم ان سے کچھ جانو گے اور کچھ کا انکار کرو گے یعنی (بات سمجھ نہیں آئے گی)۔“
سلیمان کہتے ہیں: ہشام نے کہا: ”جس نے یہ بات دل سے کہی تحقیق وہ بری ہو گیا اور جس نے ناپسند کیا تو وہ محفوظ ہو گیا، لیکن کامیاب وہ شخص ہوا جو اس پر خوش ہوا اور تابعداری کی۔“ تو کہا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم انہیں قتل نہ کر دیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ نماز پڑھیں۔“
سلیمان کہتے ہیں: ہشام نے کہا: ”جس نے یہ بات دل سے کہی تحقیق وہ بری ہو گیا اور جس نے ناپسند کیا تو وہ محفوظ ہو گیا، لیکن کامیاب وہ شخص ہوا جو اس پر خوش ہوا اور تابعداری کی۔“ تو کہا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم انہیں قتل نہ کر دیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ نماز پڑھیں۔“