السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: ما يستدل به على أن المراد بهذا الكفر كفر يباح به دمه، لا كفر يخرج به عن الإيمان بالله ورسوله إذا لم يجحد وجوب الصلاة باب: اس دلیل کا بیان جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کفر سے مراد وہ کفر ہے جس سے اس کا خون مباح ہو جاتا ہے، نہ کہ وہ کفر جو اسے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے خارج کر دے، بشرطیکہ وہ نماز کے فرض ہونے کا انکار نہ کرے
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُهُ أَنْ يُسَارَّهُ، فَأَذِنَ لَهُ فَسَارَّهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ يَسْتَأْذِنُهُ فِيهِ، فَجَهَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلَامِهِ، فَقَالَ: " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ "؟ قَالَ: بَلَى، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ: " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ "؟ قَالَ: بَلَى، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ: " أَلَيْسَ يُصَلِّي؟ "، قَالَ: بَلَى، وَلَا صَلَاةَ لَهُ، قَالَ: " أُولَئِكَ الَّذِينَ نُهِيتُ عَنْ قَتْلِهِمْ ". لَفْظُ حَدِيثِ الْقَطَّانِ.سیدنا عبداللہ بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ لوگوں کے سامنے تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اور سرگوشی کے لیے اجازت طلب کرنے لگا، تو آپ ﷺ نے اسے اجازت دے دی، اس نے منافقین میں سے ایک آدمی کے قتل کے بارے میں سرگوشی کی تو آپ ﷺ نے اپنی آواز کو اونچا کیا اور فرمایا: ”کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں، مگر اس کا اقرار اقرار نہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ اقرار نہیں کرتا کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن اس کا کوئی اقرار نہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن اس کی نماز نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہی تو ہیں وہ لوگ جن کے قتل سے میں منع کرتا ہوں۔“ یہ قطان کی حدیث کے لفظ ہیں۔