السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: ما يستدل به على أن المراد بهذا الكفر كفر يباح به دمه، لا كفر يخرج به عن الإيمان بالله ورسوله إذا لم يجحد وجوب الصلاة باب: اس دلیل کا بیان جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کفر سے مراد وہ کفر ہے جس سے اس کا خون مباح ہو جاتا ہے، نہ کہ وہ کفر جو اسے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے خارج کر دے، بشرطیکہ وہ نماز کے فرض ہونے کا انکار نہ کرے
حدیث نمبر: 6501
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا ⦗٥١٢⦘ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيُّ، ثنا حِرْمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ؛ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ الْمُسْنَدِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں حکم دیا گیا ہوں کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں حتیٰ کہ وہ اس بات کا اقرار نہ کرلیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور وہ نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور اموال کو بچا لیا مگر اسلام کے حق سے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے۔“