السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ترك الوضوء من مس الفرج بظهر الكف باب: ہاتھ کی پشت سے شرمگاہ کو چھونے سے وضو ساقط ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَرَّاحِيُّ الْعَدْلُ الْحَافِظُ بِمَرْوَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ، ثنا رَجَاءُ بْنُ مُرَجًّى الْحَافِظُ، قَالَ: اجْتَمَعْنَا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ أَنَا وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، فَتَنَاظَرُوا فِي مَسِّ الذَّكَرِ فَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: يُتَوَضَّأُ مِنْهُ، وَتَقَلَّدَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَوْلَ الْكُوفِيِّينَ وَقَالَ بِهِ، وَاحْتَجَّ ابْنُ مَعِينٍ بِحَدِيثِ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، وَاحْتَجَّ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ بِحَدِيثِ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، وَقَالَ لِيَحْيَى: كَيْفَ تَتَقَلَّدُ إِسْنَادَ بُسْرَةَ وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ أَرْسَلَ شُرْطِيًّا حَتَّى رَدَّ جَوَابَهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ يَحْيَى: ثُمَّ لَمْ يُقْنِعْ ذَلِكَ عُرْوَةَ حَتَّى أَتَى بُسْرَةَ فَسَأَلَهَا، وَشَافَهَتْهُ بِالْحَدِيثِ، ثُمَّ قَالَ يَحْيَى: وَلَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ وَأَنَّهُ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، فَقَالَ: أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ كِلَا الْأَمْرَيْنِ عَلَى مَا قُلْتُمَا فَقَالَ يَحْيَى: عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ يُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ فَقَالَ عَلِيٌّ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: لَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ وَإِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْ جَسَدِكَ قَالَ: فَقَالَ يَحْيَى: هَذَا عَمَّنْ؟ فَقَالَ: عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَإِذَا اجْتَمَعَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ عُمَرَ وَاخْتَلَفَا فَابْنُ مَسْعُودٍ أَوْلَى أَنْ يُتَّبَعَ فَقَالَ لَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: نَعَمْ وَلَكِنَّ أَبَا قَيْسٍ الْأَوْدِيَّ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ فَقَالَ: عَلِيٌّ: حَدَّثَنِي أَبُو ⦗٢١٥⦘ نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمَّارٍ قَالَ: لَا أُبَالِي مَسَسْتُهُ أَوْ أَنْفِي فَقَالَ يَحْيَى: بَيْنَ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ مَفَازَةٌ..محدث رجاء بن مرجی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم احمد بن حنبل، علی بن مدینی اور یحییٰ بن معین رحمہم اللہ مسجدِ خیف میں جمع ہوئے، وہاں مسِ ذکر پر بحث و مباحثہ ہوا (کہ اس پر وضو ہے یا نہیں) تو یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا: اس سے وضو ہے۔ علی بن مدینی رحمہ اللہ نے کوفیوں کے قول کی تقلید کی۔ ابن معین رحمہ اللہ کی دلیل سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے اور علی بن مدینی رحمہ اللہ کی دلیل قیس بن طلق کی روایت ہے اور انھوں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے کہا کہ آپ بسرہ رضی اللہ عنہا کی سند کو کیسے قبول کریں گے جبکہ مروان بن حکم نے تو ایک سپاہی بھیجا تھا جو ان کا جواب مروان کے پاس لایا تھا، تو یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا کہ پھر عروہ نے اس پر بس نہیں کی، یہاں تک کہ وہ سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے روبرو انہیں حدیث سنائی، پھر یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا: لوگوں نے قیس بن طلق پر بہت کلام کیا ہے اور اس کی حدیث قابلِ حجت نہیں۔ احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا: دونوں باتیں ویسے ہی ہیں جیسے تم دونوں نے کہیں۔
یحییٰ نے کہا: مالک، نافع کے واسطے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ شرمگاہ کو چھونے سے وضو کیا جائے گا۔ علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”اس سے وضو نہیں ہے، وہ تو تیرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے۔“ یحییٰ نے کہا: یہ کس سے مروی ہے؟ تو انھوں نے کہا: سفیان، ابوقیس اور ہزیل کے واسطے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، اور جب ابن مسعود اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کسی بات میں اختلاف کریں تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی پیروی زیادہ لائق ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے ان سے کہا: ہاں، لیکن ابوقیس اودی کی حدیث قابلِ حجت نہیں۔ علی بن مدینی رحمہ اللہ نے کہا: مجھے ابونعیم نے مسعر سے، انہوں نے عمیر بن سعید سے اور انہوں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا: ”مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں اسے چھوؤں یا اپنی ناک کو۔“ یحییٰ نے کہا: عمیر بن سعید اور عمار بن یاسر کے درمیان بڑا فاصلہ ہے (یعنی سند منقطع ہے)۔