❮
❯
حدیث نمبر: 647
فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ لَنَا مِنْ أَهْلِ الْيَمَامَةِ يُقَالُ لَهُ قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَمِعَ رَجُلًا يَسْأَلُهُ فَقَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي فَذَهَبْتُ أَحُكُّ فَخِذِي، فَأَصَابَتْ يَدِي ذَكَرِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا هُوَ مِنْكَ " وَالظَّاهِرُ مِنْ حَالِ مَنْ يَحُكُّ فَخِذَهُ وَأَصَابَتْ يَدُهُ ذَكَرَهُ أَنَّهُ إِنَّمَا يُصِيبُهُ بِظَهْرِ كَفِّهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

قیس بن طلق اپنے والد سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے سوال کیا یا کسی شخص نے سوال کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، اس دوران میں اپنی ران پر خارش کرنا شروع ہوا تو میرا ہاتھ میری شرم گاہ کو لگ گیا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ تیرا ہی حصہ ہے۔“ (ب) جو شخص اپنی ران پر خارش کر رہا ہو اور اس کا ہاتھ شرم گاہ کو لگ جائے تو اس کی ظاہری حالت یہی ہے کہ ہاتھ کی پشت ہی لگتی ہے، واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 647
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيرهٖ
تخریج حدیث «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابن ماجه 483»