السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: من قال: يكبر في الأضحى خلف صلاة الظهر من يوم النحر إلى أن يكبر خلف صلاة الصبح من آخر أيام التشريق، ثم يقطع استدلالا بأن أهل الأمصار تبع لأهل منى والحاج ذكره التلبية حتى يرمي جمرة العقبة يوم النحر ثم يكون ذكره التكبير باب: اس شخص کا قول کہ بقر عید میں یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کی ظہر کی نماز کے بعد سے ایامِ تشریق کے آخری دن کی فجر کی نماز کے بعد تک تکبیر کہے، پھر بند کر دے، اس دلیل کی بنا پر کہ شہروں کے لوگ اہلِ منیٰ کے تابع ہیں، اور حاجی کا ذکر تلبیہ ہے یہاں تک کہ وہ یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی کر لے، پھر اس کا ذکر تکبیر ہے
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ فِرَاسٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الدُّبَيْلِيُّ، ثنا أَبُو عُبَيْدِ اللهِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ " يُكَبِّرُ يَوْمَ الصَّدْرِ، وَيَأْمُرُ مَنْ حَوْلِهِ أَنْ يُكَبِّرُوا، فَلَا أَدْرِي تَأَوَّلَ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَاذْكُرُوا اللهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ} [البقرة: ٢٠٣] أَوْ قَوْلَهَ {فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ} [البقرة: ٢٠٠] ".عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ دن کے ابتدائی حصہ میں اپنے اردگرد کے لوگوں کو تکبیریں کہنے کا حکم دیتے۔ میں نہیں جانتا انہوں نے اللہ رب العزت کے اس قول کی کیا تاویل کی
﴿وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ﴾ [سورة البقرة: 203]
”تم اللہ کا ذکر شمار کیے ہوئے دنوں میں کرو۔“
یا اللہ کا فرمان: ﴿فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكُكُمْ﴾ [سورة البقرة: 200]
”جب تم مناسکِ حج ادا کرلو۔“
عبدالحمید بن ابی رباح رحمہ اللہ ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ جو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ قربانی کے دن ظہر سے لے کر ایامِ تشریق کے آخری دن تک تکبیریں کہتے۔
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ائمہ قربانی کے دن نمازِ ظہر سے تکبیروں کی ابتدا فرماتے اور ایامِ تشریق کے آخری دن تک تکبیریں کہتے۔