حدیث نمبر: 6270
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ فِرَاسٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الدُّبَيْلِيُّ، ثنا أَبُو عُبَيْدِ اللهِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ " يُكَبِّرُ يَوْمَ الصَّدْرِ، وَيَأْمُرُ مَنْ حَوْلِهِ أَنْ يُكَبِّرُوا، فَلَا أَدْرِي تَأَوَّلَ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَاذْكُرُوا اللهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ} [البقرة: ٢٠٣] أَوْ قَوْلَهَ {فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ} [البقرة: ٢٠٠] ".
حافظ ثناء اللہ

عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ دن کے ابتدائی حصہ میں اپنے اردگرد کے لوگوں کو تکبیریں کہنے کا حکم دیتے۔ میں نہیں جانتا انہوں نے اللہ رب العزت کے اس قول کی کیا تاویل کی
﴿وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ﴾ [سورة البقرة: 203]
”تم اللہ کا ذکر شمار کیے ہوئے دنوں میں کرو۔“
یا اللہ کا فرمان: ﴿فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكُكُمْ﴾ [سورة البقرة: 200]
”جب تم مناسکِ حج ادا کرلو۔“
عبدالحمید بن ابی رباح رحمہ اللہ ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ جو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ قربانی کے دن ظہر سے لے کر ایامِ تشریق کے آخری دن تک تکبیریں کہتے۔
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ائمہ قربانی کے دن نمازِ ظہر سے تکبیروں کی ابتدا فرماتے اور ایامِ تشریق کے آخری دن تک تکبیریں کہتے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 6270
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»