السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: من استحب أن يبتدئ بالتكبير خلف صلاة الصبح من يوم عرفة باب: جس نے یومِ عرفہ (نویں ذی الحجہ) کی فجر کی نماز کے بعد سے تکبیر شروع کرنے کو مستحب قرار دیا
حدیث نمبر: 6271
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: " كَانَ يَهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ عَنْ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے محمد بن ابی بکر ثقفی کے واسطے سے قراءت کی کہ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، جب وہ دونوں منیٰ سے عرفہ جا رہے تھے کہ آپ ان دنوں نبی ﷺ کے ساتھ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: تلبیہ پکارنے والا تلبیہ پکارتا تو اس پر انکار نہ کیا جاتا تھا اور ہم میں سے تکبیریں کہنے والے تکبیریں کہتے تو ان پر بھی انکار نہ کیا جاتا تھا۔