السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: من قال: يكبر في الأضحى خلف صلاة الظهر من يوم النحر إلى أن يكبر خلف صلاة الصبح من آخر أيام التشريق، ثم يقطع استدلالا بأن أهل الأمصار تبع لأهل منى والحاج ذكره التلبية حتى يرمي جمرة العقبة يوم النحر ثم يكون ذكره التكبير باب: اس شخص کا قول کہ بقر عید میں یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کی ظہر کی نماز کے بعد سے ایامِ تشریق کے آخری دن کی فجر کی نماز کے بعد تک تکبیر کہے، پھر بند کر دے، اس دلیل کی بنا پر کہ شہروں کے لوگ اہلِ منیٰ کے تابع ہیں، اور حاجی کا ذکر تلبیہ ہے یہاں تک کہ وہ یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی کر لے، پھر اس کا ذکر تکبیر ہے
حدیث نمبر: 6269
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو النَّيْسَابُورِيُّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نحر کے دن ظہر کی نماز سے لے کر ایامِ تشریق کے آخری دن نمازِ عصر تک تکبیریں کہا کرتے تھے۔