السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الوضوء من النوم باب: نیند کی وجہ سے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 587
وَبِإِسْنَادِهِ، ثنا الْوَلِيدُ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ إِذَا غَلَبَهُ النَّوْمُ فِي قِيَامِ اللَّيْلِ أَتَى فِرَاشَهُ فَاضْطَجَعَ، فَرَقَدَ رُقَادَ الطَّيْرِ، ثُمَّ يَثْبُتُ، فَيَتَوَضَّأُ، وَيُعَاوِدُ الصَّلَاةَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب ان پر قیام اللیل میں نیند غالب آجاتی تو اپنے بستر پر آتے اور لیٹ جاتے، پھر پرندے کی طرح (تھوڑا سا) سوتے، پھر کود کر اٹھتے، وضو کرتے اور دوبارہ نماز پڑھنے لگ جاتے۔