قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَسَمِعْتُ بَعْضَ مَنْ أَرْضَى عِلْمَهُ بِالْقُرْآنِ، يَزْعُمُ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِي الْقَائِمِينَ مِنَ النَّوْمِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا يَرْوِيهِ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ ذَلِكَ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ مِنَ الْمَضَاجِعِ يَعْنِي النَّوْمَ،.
حافظ ثناء اللہ
(الف) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ﴾ [سورة المائدة: 6]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس شخص سے سنا جس کو قرآن کے بارے میں صحیح علم تھا کہ یہ آیت نیند سے بیدار ہونے والوں کے متعلق نازل ہوئی ہے۔
(ب) شیخ فرماتے ہیں: زید بن اسلم سے روایت ہے کہ یہ آیت نیند سے بیدار ہونے والے کے متعلق نازل ہوئی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس شخص سے سنا جس کو قرآن کے بارے میں صحیح علم تھا کہ یہ آیت نیند سے بیدار ہونے والوں کے متعلق نازل ہوئی ہے۔
(ب) شیخ فرماتے ہیں: زید بن اسلم سے روایت ہے کہ یہ آیت نیند سے بیدار ہونے والے کے متعلق نازل ہوئی ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ، وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ عَلَى أَنَّ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي خَاصٍّ بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
مالک نے پچھلی حدیث کی طرح ذکر کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے قدیم قول میں اس بات پر کہ یہ آیت ایک خاص صورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس سے دلیل لی ہے کہ نبی ﷺ نے تمام نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے قدیم قول میں اس بات پر کہ یہ آیت ایک خاص صورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس سے دلیل لی ہے کہ نبی ﷺ نے تمام نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ الْمُعَدِّلُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، نا الْفِرْيَابِيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يوْمَ الْفَتْحِ صَلَوَاتِهِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ. فَقَالَ لَهُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنِّي رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ قَبْلَ الْيَوْمِ؟ قَالَ: " عَمْدًا فَعَلْتُهُ يَا عُمَرُ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَفِي السُّنَّةِ دَلِيلٌ عَلَى أَنْ يَتَوَضَّأَ مَنْ قَامَ مِنْ نَوْمِهِ، يَعْنِي بِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فتح مکہ کے دن سب نمازیں ایک وضو سے ادا کیں اور موزوں پر مسح کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے آج ایسا کام کیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص نیند سے بیدار ہو وہ وضو کرے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص نیند سے بیدار ہو وہ وضو کرے۔
مَا أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ، نا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، نا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ ⦗١٩٠⦘ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلَا يَضَعْ يَدَهُ فِي الْوَضُوءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَحَدُكُمْ أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو وہ اپنا ہاتھ برتن کے پانی میں نہ ڈالے، یہاں تک کہ اسے دھو نہ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَاقَرْجِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، نا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، نا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ النَّوْمِ إِلَى الْوُضُوءِ فَلْيُفْرِغْ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی نیند سے (بیدار ہو کر) وضو کرنے کے لیے کھڑا ہو تو وہ اپنے ہاتھوں پر پانی ڈال لے اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ. قُلْتُ: حَاكَ فِي صَدْرِي فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، وَكُنْتُ امْرَأً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُكَ أَسْأَلُكَ، هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ فَقَالَ: " نَعَمْ، كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهِنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، لَكِنْ مِنْ بَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ أَوْ نَوْمٍ ".
حافظ ثناء اللہ
زر بن حبیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے کہا: قضائے حاجت اور پیشاب کرنے کے بعد موزوں پر مسح کرنے کے متعلق میرے دل میں بات کھٹک رہی ہے اور آپ صحابی ہیں، میں آپ کے پاس یہ پوچھنے آیا ہوں اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات سنی ہے تو انہوں نے فرمایا: جی ہاں، آپ ﷺ ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ”جب ہم مسافر ہوں تو تین دن اور تین راتیں اپنے موزوں کو نہ اتاریں سوائے جنابت کے، اور قضائے حاجت، پیشاب اور نیند سے نہ اتاریں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَبُو عُتْبَةَ، نا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا الْعَيْنُ وِكَاءُ السَّهِ فَمَنْ نَامَ فَلْيَتَوَضَّأْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”آنکھیں دبر کا بندھن ہیں، لہٰذا جو سو جائے وہ وضو کرے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ، نا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، نا بَقِيَّةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَيْنُ وِكَاءُ السَّهِ، فَإِذَا نَامَتِ الْعَيْنُ اسْتَطْلَقَ الْوِكَاءُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”آنکھیں دبر کا بندھن ہیں، جب آنکھ سو جائے تو بندھن کھل جاتا ہے۔“
وَرَوَاهُ مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: " الْعَيْنُ وِكَاءُ السَّهِ ". مَوْقُوفٌ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الصُّوفِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُسْلِمٍ، نا صَالِحُ بْنُ سَعِيدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَسَدٍ، ثنا الْوَلِيدُ، نا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ، فَذَكَرَهُ مَوْقُوفًا. قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ: وَمَرْوَانُ أَثْبَتُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”آنکھ دبر کا بندھن ہے“ یہ حدیث موقوف ہے۔
(ب) مروان بن جناح نے موقوفاً روایت ذکر کی ہے۔
ولید بن مسلم کہتے ہیں: مروان، ابوبکر بن ابی مریم سے زیادہ ثقہ ہیں۔
(ب) مروان بن جناح نے موقوفاً روایت ذکر کی ہے۔
ولید بن مسلم کہتے ہیں: مروان، ابوبکر بن ابی مریم سے زیادہ ثقہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، قَالَا: نا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: " إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ مُضْطَجِعًا فَلْيَتَوَضَّأْ ". هَذَا مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب کوئی لیٹ کر سوئے تو وہ وضو کرے، یہ روایت مرسل ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، نا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ، نا الْوَاقِدِيُّ، نا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " إِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ جَنْبَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی اپنے پہلو پر ٹیک لگا کر سو جائے تو وہ وضو کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " وَجَبَ الْوُضُوءُ عَلَى كُلِّ نَائِمٍ إِلَّا مَنْ خَفَقَ خَفْقَةً بِرَأْسِهِ ". هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْقُوفًا. وَرُوِيَ ذَلِكَ مَرْفُوعًا وَلَا يَثْبُتُ رَفْعُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: ”ہر سونے والے پر وضو واجب ہے، مگر جس کا صرف سر جھک جائے تو (نیند کی وجہ سے اس پر وضو نہیں ہے)۔“
(ب) اسے ایک جماعت نے یزید بن ابی زیاد سے موقوفاً نقل کیا ہے اور ایک مرفوع روایت بھی ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا ثابت نہیں۔
(ب) اسے ایک جماعت نے یزید بن ابی زیاد سے موقوفاً نقل کیا ہے اور ایک مرفوع روایت بھی ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا ثابت نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، نا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ ⦗١٩٢⦘ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ بِبَغْدَادَ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ غِلَاقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " مَنِ اسْتَحَقَّ النَّوْمَ فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”جس پر نیند ثابت ہوگئی اس پر وضو کرنا واجب ہوگیا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنا أَبُو أَحْمَدَ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. قَالَ إِسْمَاعِيلُ، قَالَ الْجُرَيْرِيُّ: فَسَأَلْنَاهُ عَنِ اسْتِحْقَاقِ النَّوْمِ، فَقَالَ: " هُوَ أَنْ يَضَعَ جَنْبَهُ "، وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ مَرْفُوعًا، وَلَا يَصِحُّ رَفْعُهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن علیہ، جریری سے اسی سند سے بیان کرتے ہیں۔ (ب) جریری کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا کہ نیند کب ثابت ہوتی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: جب سونے والا اپنا پہلو زمین پر لگا دے۔ (ج) یہ روایت مرفوعاً ثابت نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَارِثِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا " كَانَ يَنَامُ الْيَسِيرَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، فَيَتَوَضَّأُ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مسجد حرام میں ہلکی نیند سوتے تو وضو فرماتے۔
وَبِإِسْنَادِهِ، ثنا الْوَلِيدُ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ إِذَا غَلَبَهُ النَّوْمُ فِي قِيَامِ اللَّيْلِ أَتَى فِرَاشَهُ فَاضْطَجَعَ، فَرَقَدَ رُقَادَ الطَّيْرِ، ثُمَّ يَثْبُتُ، فَيَتَوَضَّأُ، وَيُعَاوِدُ الصَّلَاةَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب ان پر قیام اللیل میں نیند غالب آجاتی تو اپنے بستر پر آتے اور لیٹ جاتے، پھر پرندے کی طرح (تھوڑا سا) سوتے، پھر کود کر اٹھتے، وضو کرتے اور دوبارہ نماز پڑھنے لگ جاتے۔
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: نا الْوَلِيدُ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ، قَالَا: " مَنْ نَامَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا تَوَضَّأَ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء اور مجاہد رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ جو شخص رکوع اور سجدے کی حالت میں سو جائے وہ وضو کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرٍ، نا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ " أَنَّهُ كَانَ يَرَى عَلَى مَنْ نَامَ جَالِسًا وُضُوءًا ". وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: " إِذَا نَامَ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ ". إِلَى هَذَا ذَهَبَ الْمُزَنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
(الف) حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جو بیٹھے بیٹھے سو جائے تو وہ وضو کرے۔
(ب) حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جو بیٹھا یا کھڑا سو جائے اس پر وضو ہے۔
(ب) حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جو بیٹھا یا کھڑا سو جائے اس پر وضو ہے۔