السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: كلام الإمام في الخطبة باب: خطبے کے دوران امام کی گفتگو کا بیان
حدیث نمبر: 5817
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا الْمَكِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ الْعَدَوِيِّ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ، " فَأَقْبَلَ إِلَيَّ وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ خَلَتْ قَوَائِمُهُ مِنْ حَدِيدٍ، فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللهُ، ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ وَأَتَمَّ آخِرَهَا ".حافظ ثناء اللہ
ابو رفاعہ عدوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس گیا، آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک اجنبی آیا ہے، وہ دین کے بارے میں سوال کر رہا ہے، وہ نہیں جانتا کہ دین کیا ہوتا ہے؟ تو آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور خطبہ چھوڑ دیا۔ ایک کرسی لائی گئی۔ میرا خیال ہے کہ اس کے پائے لوہے کے تھے۔ آپ ﷺ مجھے سکھانے لگے جو اللہ نے آپ ﷺ کو سکھایا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے خطبہ مکمل کیا۔