حدیث نمبر: 5815
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَعَارِمٌ، وَعَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗٣٠٨⦘ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ لَهُ: " أَصَلَّيْتَ؟ " قَالَ: لَا قَالَ: " قُمْ فَارْكَعْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَارِمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن ایک شخص آیا اور نبی ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو نے نماز پڑھی ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو۔“
حدیث نمبر: 5816
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ جَاءَ وَمَرْوَانُ يَخْطُبُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَجَاءَ إِلَيْهِ الْأَحْرَاسُ لِيُجْلِسُوهُ، فَأَبَى أَنْ يَجْلِسَ حَتَّى صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ أَتَيْنَاهُ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا سَعِيدٍ كَادَ هَؤُلَاءِ أَنْ يَفْعَلُوا بِكَ فَقَالَ: " مَا كُنْتُ لِأَدَعَهَا لِشَيْءٍ بَعْدَ شَيْءٍ رَأَيْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ رَجُلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَقَالَ: " أَصَلَّيْتَ؟ " قَالَ: لَا قَالَ: " فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " قَالَ: ثُمَّ حَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَلْقَوْا ثِيَابًا فَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا الرَّجُلَ ثَوْبَيْنِ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الْأُخْرَى جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصَلَّيْتَ؟ " قَالَ: لَا قَالَ: " فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " ثُمَّ حَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَطَرَحَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ فَصَاحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " خُذْهُ " فَأَخَذَهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرُوا إِلَى هَذَا جَاءَ تِلْكَ الْجُمُعَةَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَطَرَحُوا ثِيَابًا فَأَعْطَيْتُهُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ، فَلَمَّا جَاءَتْ هَذِهِ الْجُمُعَةُ أَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَجَاءَ فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ " وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ بِمَعْنَى رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
عیاض بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ آئے اور مروان خطبہ دے رہے تھے۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور دو رکعات پڑھیں تو ان کے پاس شاہی محافظ آئے تاکہ ان کو بٹھائیں۔ انہوں نے انکار کر دیا، یہاں تک کہ دو رکعات ادا کیں۔ جب ہم نے نماز پوری کر لی تو ہم ان کے پاس آئے اور کہا: اے ابو سعید! قریب تھا کہ وہ آپ کو تکلیف دیتے۔ فرمانے لگے: میں نے جو نبی ﷺ سے دیکھا ہے میں اس کو کبھی نہ چھوڑوں گا۔ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، پراگندہ حالت والا اور آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو نے نماز پڑھی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو رکعت پڑھو۔“ راوی کہتے ہیں: پھر نبی ﷺ نے لوگوں کو صدقہ پر ابھارا تو اس نے ایک کپڑا دے دیا، نبی ﷺ نے بلند آواز سے فرمایا: ”اسے لے لو۔“ اس نے لے لیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی طرف دیکھو، پچھلے جمعہ پراگندہ حالت میں آیا تو میں نے لوگوں کو صدقہ کے لیے فرمایا۔ لوگوں نے کپڑے دیے۔ ان کپڑوں سے دو کپڑے میں نے اس کو دے دیے۔ اس جمعہ آیا ہے تو میں نے لوگوں کو صدقہ کا حکم دیا تو اس نے ان دو کپڑوں میں سے ایک کو صدقہ میں دے دیا۔“
حدیث نمبر: 5817
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا الْمَكِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ الْعَدَوِيِّ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ، " فَأَقْبَلَ إِلَيَّ وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ خَلَتْ قَوَائِمُهُ مِنْ حَدِيدٍ، فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللهُ، ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ وَأَتَمَّ آخِرَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابو رفاعہ عدوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس گیا، آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک اجنبی آیا ہے، وہ دین کے بارے میں سوال کر رہا ہے، وہ نہیں جانتا کہ دین کیا ہوتا ہے؟ تو آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور خطبہ چھوڑ دیا۔ ایک کرسی لائی گئی۔ میرا خیال ہے کہ اس کے پائے لوہے کے تھے۔ آپ ﷺ مجھے سکھانے لگے جو اللہ نے آپ ﷺ کو سکھایا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے خطبہ مکمل کیا۔
حدیث نمبر: 5818
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ بِنَيْسَابُورَ ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ حدیث اس سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 5819
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا فَجَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَعَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمَلَهُمَا فَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " صَدَقَ اللهُ {إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ} [التغابن: ١٥] نَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ، فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا ". وَرَوَاهُ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ہمیں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما آئے، ان پر سرخ رنگ کی دو قمیصیں تھیں، وہ چل رہے تھے اور گرتے تھے۔ نبی ﷺ منبر سے اترے، ان کو اٹھایا اور اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا: ”اللہ نے سچ فرمایا: ﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾ [سورة التغابن: 15] ”تمہارے مال و اولاد فتنہ ہیں۔“ میں نے ان دو بچوں کو دیکھا وہ چلتے اور گرتے تو مجھ سے صبر نہ ہوا، میں نے اپنی بات کاٹی اور ان کو اٹھا لیا۔“
حدیث نمبر: 5820
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: " قَامَ أَبِي فِي الشَّمْسِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَأَمَرَ بِهِ فَقُرِّبَ إِلَى الظِّلِّ ".
حافظ ثناء اللہ
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد رضی اللہ عنہ آئے اور دھوپ میں کھڑے ہو گئے، نبی ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ ﷺ نے حکم دیا تو ان کو سائے میں کر دیا گیا۔
حدیث نمبر: 5821
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّهُ جَاءَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَامَ فِي الشَّمْسِ فَأَمَرَ بِهِ فَحُوِّلَ إِلَى الظِّلِّ ".
حافظ ثناء اللہ
قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد رضی اللہ عنہ آئے اور رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ وہ دھوپ میں کھڑے ہو گئے تو نبی ﷺ نے حکم دیا اور ان کو سائے میں کر دیا گیا۔
حدیث نمبر: 5822
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا اسْتَوَى عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ: " اجْلِسُوا " فَسَمِعَ ذَلِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَجَلَسَ فَرَآهُ فَقَالَ: " تَعَالَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ " وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءٍ فَأَرْسَلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو فرمایا: ”تم بیٹھ جاؤ۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سنا تو وہیں بیٹھ گئے۔ نبی ﷺ نے ان کو دیکھا تو فرمایا: ”ابن مسعود! آگے آ جاؤ۔“
حدیث نمبر: 5823
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: أَبْصَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ خَارِجًا مِنَ الْمَسْجِدِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ: " تَعَالَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو مسجد سے باہر دیکھا اور نبی ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن مسعود! آگے آ جاؤ۔“