السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: كلام الإمام في الخطبة باب: خطبے کے دوران امام کی گفتگو کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ جَاءَ وَمَرْوَانُ يَخْطُبُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَجَاءَ إِلَيْهِ الْأَحْرَاسُ لِيُجْلِسُوهُ، فَأَبَى أَنْ يَجْلِسَ حَتَّى صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ أَتَيْنَاهُ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا سَعِيدٍ كَادَ هَؤُلَاءِ أَنْ يَفْعَلُوا بِكَ فَقَالَ: " مَا كُنْتُ لِأَدَعَهَا لِشَيْءٍ بَعْدَ شَيْءٍ رَأَيْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ رَجُلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَقَالَ: " أَصَلَّيْتَ؟ " قَالَ: لَا قَالَ: " فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " قَالَ: ثُمَّ حَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَلْقَوْا ثِيَابًا فَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا الرَّجُلَ ثَوْبَيْنِ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الْأُخْرَى جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصَلَّيْتَ؟ " قَالَ: لَا قَالَ: " فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " ثُمَّ حَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَطَرَحَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ فَصَاحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " خُذْهُ " فَأَخَذَهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرُوا إِلَى هَذَا جَاءَ تِلْكَ الْجُمُعَةَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَطَرَحُوا ثِيَابًا فَأَعْطَيْتُهُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ، فَلَمَّا جَاءَتْ هَذِهِ الْجُمُعَةُ أَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَجَاءَ فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ " وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ بِمَعْنَى رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْهُ.عیاض بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ آئے اور مروان خطبہ دے رہے تھے۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور دو رکعات پڑھیں تو ان کے پاس شاہی محافظ آئے تاکہ ان کو بٹھائیں۔ انہوں نے انکار کر دیا، یہاں تک کہ دو رکعات ادا کیں۔ جب ہم نے نماز پوری کر لی تو ہم ان کے پاس آئے اور کہا: اے ابو سعید! قریب تھا کہ وہ آپ کو تکلیف دیتے۔ فرمانے لگے: میں نے جو نبی ﷺ سے دیکھا ہے میں اس کو کبھی نہ چھوڑوں گا۔ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، پراگندہ حالت والا اور آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو نے نماز پڑھی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو رکعت پڑھو۔“ راوی کہتے ہیں: پھر نبی ﷺ نے لوگوں کو صدقہ پر ابھارا تو اس نے ایک کپڑا دے دیا، نبی ﷺ نے بلند آواز سے فرمایا: ”اسے لے لو۔“ اس نے لے لیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی طرف دیکھو، پچھلے جمعہ پراگندہ حالت میں آیا تو میں نے لوگوں کو صدقہ کے لیے فرمایا۔ لوگوں نے کپڑے دیے۔ ان کپڑوں سے دو کپڑے میں نے اس کو دے دیے۔ اس جمعہ آیا ہے تو میں نے لوگوں کو صدقہ کا حکم دیا تو اس نے ان دو کپڑوں میں سے ایک کو صدقہ میں دے دیا۔“