السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: : كيف يستحب أن تكون الخطبة باب: خطبہ کس طرح کا ہونا مستحب ہے اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ تَشَهُّدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ: " إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، مَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى، نَسْأَلُ اللهَ رَبَّنَا أَنْ يَجْعَلَنَا مِمَّنْ يُطِيعُهُ وَيُطِيعُ رَسُولَهُ، وَيَتَّبِعُ رِضْوَانَهُ، وَيَجْتَنِبُ سَخَطَهُ، فَإِنَّمَا نَحْنُ بِهِ وَلَهُ ".یونس نے ابن شہاب سے رسول اللہ ﷺ کے جمعہ کے خطبہ کے بارے میں سوال کیا تو ابن شہاب نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی سے استغفار کرتے ہیں۔ ہم اللہ کی پناہ میں آتے ہیں اپنے نفس کی شرارتوں سے۔ جس کو اللہ ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جس کو وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ قیامت سے پہلے ان کو ڈرانے والا اور خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، اس نے ہدایت پائی اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوا۔ ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں ان میں سے بنا جو تیری فرمانبرداری کرنے والے ہوں اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں، ان کی رضا کو تلاش کریں اور ناراضی سے بچیں۔ ہم تیری اور تیرے رسول کی تابعداری کرتے ہیں۔“
ابن شہاب فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ خطبہ ارشاد فرماتے: ”جو چیز قریب آنے والی ہے وہ دور نہیں ہے۔ کسی کی جلدی کی وجہ سے اللہ اس کو جلدی نہیں کرتا اور وہ لوگوں کے کاموں کو بھی اتنا گھیرتا ہے جتنا چاہتا ہے، لوگوں کی چاہت کے موافق نہیں۔ اللہ کچھ چاہتا ہے اور لوگ کچھ، ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے، اگرچہ لوگ ناپسند ہی کیوں نہ کریں۔ جس کو اللہ قریب کر دے اسے دور کرنے والا کوئی نہیں اور جس کو اللہ دور کر دے اس کو قریب کرنے والا کوئی نہیں۔ کوئی کام اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا۔“
ابن شہاب فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے خطبہ میں فرماتے تھے: کامیاب وہ ہے جو خواہشات، لالچ اور غصہ سے محفوظ کیا گیا۔ سچی بات کے علاوہ کوئی بھلائی نہیں۔ جو جھوٹ بولتا ہے وہ گناہ کرتا ہے اور گناہ ہلاک کر دیتا ہے۔ گناہ سے بچو۔ فاجر آدمی مٹی سے پیدا ہوا اسی میں واپس چلا جائے گا۔ وہ آج زندہ ہے اور کل مردہ، لہٰذا روزانہ عمل کرو۔ مظلوم کی بد دعا سے بچو اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو۔