السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: : كيف يستحب أن تكون الخطبة باب: خطبہ کس طرح کا ہونا مستحب ہے اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، ثنا أَبُو الْعَوَّامِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَشَهَّدُ " الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، مَنْ يُطِعِ اللهَ ⦗٣٠٥⦘ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِ فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّ اللهَ شَيْئًا، وَلَا يَضُرُّ إِلَّا نَفْسَهُ ".سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس طرح خطبہ دیا کرتے تھے: «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ، نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ، وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ، وَاَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ، اَرْسَلَہٗ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَنَذِیْرًا بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَةِ، مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ یَّعْصِہِ فَاِنَّہٗ لَا یَضُرُّ اللّٰہَ شَیْئًا، وَلَا یَضُرُّ اِلَّا نَفْسَہٗ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ ہم اللہ کی پناہ لیتے ہیں اپنے نفس کی شرارتوں سے۔ جس کو اللہ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جس کو اللہ گمراہ کر دے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اس نے انہیں حق کے ساتھ مبعوث کیا، وہ خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے ہیں قیامت سے پہلے۔ جس نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی اس نے ہدایت پائی اور جس نے نافرمانی کی وہ اللہ کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا، اپنا ہی نقصان کرے گا۔“